خوشخبری: سعودی عدلیہ میں خواتین کے لئے 5 نئے شعبے کھل گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب میں وزارت انصاف نے عدلیہ کے شعبے میں خواتین کے لیے پہلی مرتبہ پانچ نئی اسامیوں کا اضافہ کیا ہے۔ اس طرح عدالتی معاملات میں سماجی، شرعی اور قانونی محقّق کے علاوہ اب خواتین انتظامی معاون اور پروگرام ڈیولپر کے طور پر بھی فرائض انجام دے سکیں گی۔

سعودی عرب میں اس وقت خواتین وکلاء کی تعداد 280 ہے۔

ادھر گزشتہ تین برسوں کے دوران خواتین وکلاء کو دیے جانے والے لائسنسوں کی شرح 240 فیصد تک بڑھ گئی۔

وزارت انصاف نے مملکت میں خواتین کو ان کے شرعی اور قانونی حقوق سے آگاہی کے لیے مختلف نوعیت کے پروگرام ترتیب دیے۔ اس سلسلے میں آخری پروگرام ریاض کی شہزادی نورہ یونیورسٹی میں منعقد ہوا۔

مشرقی صوبے میں کمیونٹی لیگل کمیٹی کی رکن نوف الحمد نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ "وزارت انصاف نے خواتین اور خواتین وکلاء کی خدمات کے سلسلے میں نمایاں پیش رفت کو یقینی بنایا ہے۔ ان میں عدالتوں میں خدمات کے بعض ہال کا فراہم کیا جانا اور خواتین کے لیے فنگر پرنٹ کی سہولت کا پیش کیا جانا شامل ہے"۔

ایڈوکیٹ دالیا الدوسری کا کہنا ہے کہ "مملکت میں خواتین وکلاء کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ترقی کے پہّیے میں خواتین اپنا کردار بھرپور طریقے ادا کر رہی ہیں۔ وزارت انصاف کی جانب سے سعودی خواتین وکلاء کو تیار کرنے کے سلسلے میں کوششیں جاری ہیں۔ اس حوالے سے خواتین کو وکالت کے شعبے میں پیشہ ورانہ تربیت فراہم کر کے انہیں محنت کی منڈی میں داخل ہونے کا موقع دیا جا رہا ہے"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں