لیبیا کی صدارتی کونسل کے جنرل حفتر نواز نائب سربراہ کا اغوا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

لیبیا کے دارالحکومت طرابلس میں منگل کی شام مسلح افراد نے وفاق کی حکومت کی صدارتی کونسل کے نائب سربراہ فتحی المجبری کو اُن کے گھر کے سامنے سے اغوا کر لیا۔ یہ کارروائی فتحی کی جانب سے لیبیا کی فوج کے سربراہ کے اُس فیصلے کی تائید کے ایک روز بعد ہوئی ہے جس میں خلیفہ حفتر نے تیل کی بندرگاہوں کو لیبیا کے مشرق میں موجود حکام کے زیر انتظام لیبیا کی آئل کارپویشن کے حوالے کرنے کا اعلان کیا تھا۔

لیبیا کے مشرق میں عبداللہ الثنی کے زیر قیادت عبوری حکومت نے ایک بیان میں فتحی المجبری کے اغوا کی سخت مذمت کی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت کو اس واقعے پر تشویش ہے جس میں نامعلوم مسلح افراد نے فتحی اور ان کے ایک ساتھی کو اغوا کر لیا جب کہ فتحی کے محافظین کو فائرنگ سے زخمی کر دیا گیا۔ حکومت کے مطابق یہ واقعہ اس بات کی دلیل ہے کہ طرابلس ابھی تک شدت پسند اور دہشت گرد جماعتوں کے زیر سایہ ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ فتحی المجبری کو کسی قسم کا نقصان پہنچنے کی صورت میں اس کی ذمّے داری صدارتی کونسل کے سربراہ اور اقوام متحدہ کے مشن پر ہو گی۔

فتحی المجبری نے پیر کے روز ایک بیان میں آئل فیلڈز اور پورٹس کے حوالے سے فوج کے سربراہ خلیفہ حفتر کے فیصلے کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔ فتحی کے مطابق "یہ اقدام اس بات چیت کے لیے ایک سُتون ہو گا جس کا مقصد بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکام اور ملک کے مشرق میں قومی عسکری اور شہری اداروں کے درمیان حقیقی موافقت کو یقینی بنانا ہے۔ اس بات چیت کا نتیجہ ملک کے وسائل کی زیادہ منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانے کے لیے فوری میکانزم کے سامنے آنے کی صورت میں نکلے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں