کن ملکوں نے قطر کے ساتھ فضائی حدود کا تنازع عالمی عدالت میں لے جانے کا فیصلہ کر لیا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب، امارات، بحرین اور مصر نے قطر کے ساتھ اپنی خود مختارانہ فضائی حدود کا معاملہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف میں لے جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ معاملہ اس سے قبل جہاز رانی کے حقوق کے نگراں ادارے ’بین الاقوامی ایوی ایشن آرگنائزیشن‘ (ایکاؤ) میں پیش کیا جا چکا ہے۔ تاہم چاروں ممالک کا دعوی ہے کہ ایکاؤ اس تنازع پر نظر کرنے کی اہل نہیں ہے۔

اس سے قبل ایکاؤ نے اپنے معمول کے اجلاس نمبر 214 میں قطر کی جانب سے پیش کی جانے والی دو درخواستوں کا جائزہ لیا تھا۔ ان میں قطر نے مطالبہ کیا تھا کہ قطر میں رجسٹرڈ طیاروں کے لیے مذکورہ چاروں عرب ممالک کی فضائی حدود کی بندش اور وہاں سے ان کے اڑان بھرنے اور اترنے پر پابندی کے معاملے پر تصفیے کے لیے نظر ڈالی جائے۔

ایکاؤ تنظیم کی کونسل کے فیصلے میں قطر کو موقع فراہم کیا گیا کہ اس کے مطالبات کو سنا جائے۔ فیصلے میں ان مطالبات کی تائید یا چاروں عرب ممالک سے کسی اقدام کا مطالبہ شامل نہیں تھا۔ اس کے پیشِ نظر چاروں عرب ممالک نے فیصلے پر اعتراض کرتے ہوئے اس معاملے کو بین الاقوامی عدالتِ انصاف میں لے جانے کا فیصلہ کیا ہے۔

سعودی عرب، مصر، امارات اور بحرین نے کے نزدیک اس معاملے کا مرکزی پہلو یہ ہے کہ قطر ان چاروں ممالک کی خود مختاری کے حقوق کی بڑے پیمانے پر مسلسل خلاف ورزی کر رہا ہے جن میں ان ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت اور دہشت گردی کی سپورٹ شامل ہے۔ ایکاؤ تنظیم کی کونسل کا قطر کے مطالبات پر غور قبول کرنا غیر قانونی ہے۔

بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جانب سے اس معاملے میں فیصلہ جاری ہونے تک ایکاؤ تنظیم قطر کے مطالبات پر غور روک دے گی اور چاروں عرب ممالک بین الاقوامی قانون کے تحت قطری طیاروں کے لیے اپنی فضائی حدود کی بندش کے حق کا استعمال کرتے رہیں گے۔

یاد رہے کہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے فیصلے میں ایکاؤ تنظیم کے فیصلے کے مؤثر ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ کیا جائے گا۔ اس میں قطری دعوؤں کو قبول کرنے یا فضائی حدود کی بندش کو ختم کرنے کے حوالے سے کوئی بات شامل نہیں ہو گی۔ اس طرح بین الاقوامی قانون فضائی حدود کی بندش کے حوالے سے چاروں عرب ممالک کی حمایت جاری رکھے گا اور اس معاملے میں کچھ تبدیل نہیں ہو گا۔

سعودی عرب، امارات، بحرین اور مصر کی جانب سے بین الاقوامی عدالتِ انصاف کا دروازہ کھٹکھٹانے کے باوجود چاروں ممالک ایکاؤ تنظیم اور اس کے رکن ممالک کے ساتھ تمام شعبوں میں مفید تعاون کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔

ایکاؤ تنظیم کی کونسل کے سکریٹریٹ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خلیج میں بین الاقوامی پانی کے اوپر فضائی جہاز رانی تنظیم کی جانب سے جاری ہدایات کے مطابق محفوظ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size