جنوبی شام میں کشیدگی کم کرنے سے متعلق معاہدے کا ہر قیمت پر احترام کیا جائے گا: ماسکو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

روسی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ جنوبی شام میں کشیدگی میں کمی سے متعلق معاہدے پرسختی سے عمل درآمد جاری ہے اور اس معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کی گئی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق روسی وزارت دفاع کی طرف سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دوسری جانب یہ رپورٹس آئی ہیں کہ روس نے اسد رجیم کی فورسز کی جنوب مغربی شام میں جاری کارروائی میں بھرپور معاونت کی ہے۔

روسی وزارت خارجہ نے بدھ کے روز ایک بیان میں کہا کہ وزیر خارجہ سیرگی لافروف اور امریکی قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن نے ملاقات کی ہے۔ اس ملاقات میں شام کی صورت حال، یوکرائن کے معاملے اور امریکا ۔ روس تعلقات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اپنے دورہ روس کے دوران جان بولٹن روسی صدر ولادی میر پیوٹن سے بھی ملاقات کریں گے۔

خیال رہے کہ جنوبی شام کے درعا شہر میں شامی فوج کی کارروائی کے دوران روس نے بھی اسد رجیم کے ساتھ مل کر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیاں کی ہیں۔

انسانی حقوق آبزرویٹری کے مطابق ایک سال پیشتر درعا میں اسد رجیم، روس اور اپوزیشن فورسز کے درمیان فائر بندی کا معاہدہ طے پایا تھا۔

روسی اور اسدی فوج کے درعا پر حملوں کے دوران شامی اپوزیشن نے بتایا ہے کہ انہیں امریکا کی طرف سے تحمل سے کام لینے کا پیغام ملا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکا نے جنوبی شام میں لڑائی میں نہ کودنے کا یقین دلایا ہے اور ساتھ ہی اپوزیشن فورسز سے کہا ہے کہ وہ اسد رجیم کی اشتعال انگیزی کو نظرانداز کریں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں