داعش نے یرغمال بنائے چھ شہریوں کو فنا کے گھاٹ اتار دیا؟

انتہا پسند گروپ نے مقتول شہریوں کو اپنی گرفتار خواتین کی رہائی کے لئے اغوا کیا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراق کی پولیس کا کہنا ہے کہ دیالی گورنری میں چھ افراد کی لاشیں ملی ہیں۔ ممکنہ طور پر یہ لاشیں ان چھ افراد کی ہو سکتی ہیں جنہیں داعش کے دہشت گردوں نے اغواء کر رکھا تھا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق داعش کی جانب سے عراقی حکام سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ ’خواتین اہل سنت‘ کو رہا کریں تو وہ یرغمال بنائے گئے افراد کو چھوڑ دیں گے۔ داعش کی جانب سے مقرر کی گئی ڈیڈ لائن دو روز قبل ختم ہو گئی تھی۔

دیالی میں آپریشنل چیف جنرل مزھر العزاوی نے بدھ کو ایک بیان میں بتایا کہ بغداد ۔ کرکوک شاہراہ سے چھ افراد کی لاشیں ملی ہیں، انہیں شناخت کے لیے کرکوک میں طوز خور ماتو سٹی اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔

جنرل العزاوی نے کہا کہ یہ لاشیں سڑک کے کنارے شمالی گورنری صلاح الدین کی سرحد کے قریب تل شرف کے مقام سے ملی ہیں۔ غالب امکان یہ ہے کہ یہ انہی افراد کی لاشیں ہیں جن کی رہائی کے بدلے میں داعش اپنی گرفتار خواتین کی رہائی کا مطالبہ کر رہے تھے۔ داعش نے دھمکی دی تھی کہ اگر ان کی قیدی خواتین کو رہا نہیں کیا جاتا تو وہ یرغمالیوں کو قتل کر دیں گے۔ بعض لاشوں پر تشدد کے نشانات ہیں اور ان کے مثلے بھی بنائے گئے ہیں جب کہ انہیں ایک بارودی پٹی کے ساتھ باندھ کر ہلاک کیا گیا۔

مغوی ایک شہری نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ اسے نامعلوم شخص کی جانب سے فون کال موصول ہوئی جس میں فون کرنے والے نے دعویٰ کیا کہ اس کا تعلق داعش سے ہے۔ اس نے کہا کہ یرغمال افراد کو قتل کر دیا گیا ہے اور ان کے قریبی عزیز سمیت دیگر مقتولین کی لاشیں فلاں مقام پر پڑی ہیں۔ سرکاری طورپر اس خبر کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں