.

لیبیا:امریکی سفارت کاروں پر حملے کے منصوبہ ساز کو22 سال قید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کی ایک عدالت نے گیارہ ستمبر 2012ء کو لیبیا کے شہر بن غازی میں سفارتی کالونی میں سفارت کاروں حملے کے منصوبہ ساز اور دہشت گردی کی دیگر وارداتوں میں قصور وار ہونے کے جرم میں شدت پسند ابو ختالہ کو بائیس سال قید کی سزا سنائی ہے۔

امریکی وزارت انصاف کے مطابق احمد ابو ختالہ بن غازی کی ڈپلومیٹک انکلیو میں ہونے والے ایک دہشت گردانہ حملے کے منصوبہ ساز ہیں اور ان پر دہشت گردی کی کئی دوسری وارداتوں میں ملوث ہونے کے سنگین الزامات بھی عاید کیے گئے ہیں۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ابو ختالہ نے مسلح شدت پسندوں پر مشتمل ایک سیل قائم کر رکھا تھا جسے ابو عبیدہ ابن الجراح کے نام سے جانا جاتا تھا۔ اس گروپ نے بنغازی میں امریکی سفارت کاروں کی رہائش گاہوں پر حملہ کرکے انہیں نقصان پہنچایا تھا۔

امریکی عدالت نے لیبی نژاد ابو ختالہ پر گذشتہ برس نومبر میں فرد جرم عاید کی تھی۔ اس پر قتل سمیت 18 الزامات عاید کیے گئے تھے تاہم بعد ازاں بعض الزامات کو ساقط کر دیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ بن غازی میں سنہ دو ہزار بارہ کو ہونے والے ایک دہشت گردانہ حملے میں امریکی سفیر کریسٹوفر اسٹیفنز ار تین دیگر امریکی ہلاک ہوگئے تھے۔

امریکی حکومت کا دعویٰ ہے کہ ابو ختالہ نے اپنے دیگر ساتھیوں کو دہشت گردی اور امریکی سفارت کاروں پر حملوں پر اکسایا تھا۔ امریکی وزارت انصاف کے مطابق ستمبر 2012ء کو حملے کی تیاری کے لیے ابو ختالہ گروپ نے بڑی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود جمع کرلیا تھا۔

خیال رہے کہ ابو ختالہ واحد شدت پسند ہے جس پر بن غازی میں امریکی سفارت خانے پرہونے والے حملے میں ملوث ہونے کا الزام عاید کیا گیا ہے۔ ابو ختالہ کی گرفتاری کے بعد اسے امریکی انٹیلی جنس حکام بالخصوص’ایف بی آئی‘ کے تفتیش کار پوچھ تاچھ کرچکے ہیں۔