.

یرغمالیوں کا قتل : عراقی وزیراعظم کا داعشیوں کو فوری طور پر موت کے گھاٹ اتارنے کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراقی وزیراعظم حیدر العبادی نے جمعرات کے روز حکم دیا ہے کہ "دہشت گردوں" کے خلاف جاری سزائے موت کے فیصلے پر فوری عمل درامد کیا جائے۔ ایسا نظر آتا ہے کہ یہ پیش رفت داعش تنظیم کی جانب سے اپنے قبضے میں موجود یرغمالیوں کو موت کے گھاٹ اتار دینے کے جواب میں سامنے آئی ہے۔

سرکاری بیان کے مطابق العبادی نے حکم دیا ہے کہ جن دہشت گردوں کے خلاف سزائے موت کے قطعی احکامات ہیں ان سے فوری طور پر منصفانہ قصاص لیا جائے۔

قطعی احکامات سے مراد یہ ہے کہ اپیل کورٹ نے اس کے خلاف درخواست مسترد کر دی ہو اور ایوان صدارت نے اس کی توثیق کر دی ہو۔

اس سے قبل جمعرات کے روز ہی العبادی نے دھمکی دی تھی کہ یرغمالیوں کے ایک گروپ کو موت کے گھاٹ اتارنے میں ملوث دہشت گردوں کو موت کی نیند سُلا کر کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔ سکیورٹی فورسز کو بدھ کے روز مذکورہ یرغمالیوں کی لاشیں ملی تھیں۔

داعش تنظیم کے زیر انتظام پروپیگنڈہ ایجنسی "اعماق" نے گزشتہ ہفتے کے روز "ٹیلی گرام" ایپلی کیشن کے ذریعے ایک وڈیو جاری کی تھی۔ اس میں تنظیم کے عناصر نے دھمکی دی تھی کہ تین روز کے اندر اگر "سُنّی خواتین قیدیوں" کو رہا نہ کیا گیا تو وہ چھ افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیں گے۔ وڈیو کی ابتدا میں بتایا گیا کہ یرغمال بنائے جانے والے افراد کا تعلق عراقی پولیس اور الحشد الشعبی ملیشیا سے ہے۔ داعش تنظیم نے ان افراد کو بغداد سے کرکوک جانے والے راستے پر قیدی بنایا تھا۔

مشترکہ آپریشنز کی کمان کے ساتھ اجلاس کے دوران وزیراعظم العبادی نے مقتول یرغمالیوں کے خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کیا اور کہا کہ "ہم وعدہ کرتے ہیں کہ اس جرم کے مرتکب عناصر کو قتل کر دیا جائے گا یا پھر پکڑ لیا جائے گا"۔

العبادی کے مطابق "فورنزک میڈیکل رپورٹ سے تصدیق ہوتی ہے کہ دہشت گردوں نے اس جرم کا ارتکاب پانچ روز سے زیادہ عرصہ پہلے کیا۔ اس کا مطلب ہوا کہ جب وڈیو منظر عام پر آئی تو وہ قتل کیے جا چکے تھے"۔

بغداد حکومت نے دسمبر 2017ء میں داعش تنظیم کے خلاف جنگ کے اختتام پذیر ہونے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم ماہرین کے مطابق عراق اور شام کے درمیان سرحد اور عراقی صحراء کے وسیع علاقے میں موجود کمین گاہوں میں مسلح شدت پسند ابھی تک موجود ہیں۔