.

شامی حزبِ اختلاف کی درعا میں لڑائی رکوانے کے لیے روس سے بات چیت ناکام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی حزبِ اختلاف کی جنوبی صوبے درعا میں سرکاری فوج کے حملے رکوانے کے لیے روسی افسروں سے بات چیت ناکام ہوگئی ہے اور حزب اختلاف نے روس کے یک طرفہ طور پر ہتھیار ڈالنے کے مطالبے کو مسترد کردیا ہے۔درعا میں شامی اور روسی فوج باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں پر تباہ کن فضائی حملے کررہی ہے۔

شام کے منحرف فوجیوں اور حزب اختلاف کے جنگجوؤں پر مشتمل جیش الحر کے ترجمان ابراہیم جباوی نے ہفتے کو ایک بیان میں بتایا ہے کہ ’’ روسی افسروں اور حزب ِاختلاف کے درمیان ملاقات ناکام ہوگئی ہے۔ روسی ہمارے مطالبات کو سننے کو تیار ہی نہیں تھے ۔انھوں نے صرف ایک آپشن پیش کیا تھا اور وہ یہ کہ ہم ہتھیار ڈالنے کے لیے ان کا شرم ناک مطالبہ تسلیم کرلیں لیکن ہم نے اس کو مسترد کردیا ہے‘‘۔

قبل ازیں باغیو ں کے مذاکرات کاروں نے ایک بیان میں بتایا تھا کہ چھے شہری اور فوجی ارکان پر مشتمل کمیٹی کا ہمسایہ صوبے السویدہ کی انتظامی سرحد پر روسی افسروں کے ساتھ بات چیت کی تھی۔ جیش الحر کے ترجمان نے بتایا تھا کہ روسی افسروں نے اجلاس میں اپنے مطالبات پیش کیے تھے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیریس نے گذشتہ روز ایک بیان میں شام کے جنوب مغربی علاقے میں فوجی کارروائیاں فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا تھا۔شامی فوج باغیوں کے زیر قبضہ درعا کے جنوب مغربی علاقوں پر تباہ کن حملے کررہی ہے۔

سیکریٹری جنرل کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے ایک بیان میں کہا تھا کہ’’ گوٹیریس کو شام کے جنوب مغرب میں شہریوں کی ہلاکتوں پر گہری تشویش لاحق ہے۔سیکریٹری جنرل نے یہ بات زور دے کر کہی ہےکہ شام کا جنوب مغربی علاقہ گذشتہ سال اردن ، روس اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کے سمجھوتے کا حصہ ہے‘‘۔

انھوں نے تمام فریقوں پر زوردیا کہ وہ عالمی انسانی قانون اور انسانی حقوق کے قانون کے تحت اپنی اپنی ذمے داریوں کو پورا کریں ۔ شہریوں کا تحفظ کریں اور ان تک مستقل اور بلا تعطل انسانی امداد کی بہم رسانی کو یقینی بنائیں۔

برطانیہ میں قائم شامی رصدگا ہ برائے انسانی حقوق کے مطابق درعا میں شامی فوج کی نئی مہم کے آغاز کے بعد سے ہزاروں افراد بے گھر ہوچکے ہیں اور کم سے کم ایک سو شہری فضائی حملوں میں مارے گئے ہیں۔