پابندیوں سے بچنے کے لیے ایرانی تدبیر ، دولت مندوں کی غیر ملکی پاسپورٹس کی خریداری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

رواں برس جنوری میں عرب لیگ کے رکن ملک کوموروس نے خاموشی کے ساتھ اُن پاسپورٹوں کو منسوخ کر دیا جو گزشتہ چند برسوں کے دوران غیر ملکیوں نے خریدے تھے۔ مشرقی افریقہ کے ساحل کے مقابل واقع اس چھوٹے سے ملک نے مذکورہ فیصلے کی وجوہات سے متعلق تفصیلات کا اعلان نہیں کیا۔ کوموروس صرف اتنا کہنے پر اکتفا کیا کہ یہ پاسپورٹس نامناسب طور پر جاری کیے گئے۔

البتہ برطانوی خبر رساں ایجنسی "رائٹرز" نے مذکورہ پاسپورٹس حاصل کرنے والوں کے ناموں کی خفیہ فہرست کی آگاہی حاصل کر لی۔ ایجنسی کے مطابق جن 155 شخصیات کے پاسپورٹس منسوخ کیے گئے اُن میں 100 سے زیادہ ایرانی ہیں۔ ان افراد میں متعدد ایسے ایگزیکٹو مینجرز بھی ہیں جن کا تعلق جہاز رانی، تیل اور گیس، غیر ملکی کرنسی اور قیمتی معدنیات کے شعبوں میں کام کرنے والی کمپنیوں سے ہے۔ یہ تمام وہ شعبے ہیں جو ایران پر عائد بین الاقوامی پابندیوں میں مرکزی ہدف ہیں۔

ان میں بعض افراد نے کوموروس سے جاری ہونے والے ایک سے زیادہ پاسپورٹ خریدے۔

اگرچہ ان میں سے کوئی بھی شخص یا کمپنی پابندیوں کی فہرست میں نہیں تاہم ایران پر پابندیوں کی روشنی میں کسی دوسرے ملک کا پاسپورٹ رکھنا غالبا ایک مفید امر ہو سکتا ہے۔

کوموروس سے جاری پاسپورٹس مشرق وسطی اور مشرقِ بعید کے علاقوں میں ویزے کے بغیر سفر کا موقع فراہم کرتا ہے۔ ایرانی باشندے اس پاسپورٹ کو غیر ملکی بینکوں میں کھاتے کھولنے اور بیرون ملک کمپنیوں میں اندراج کے واسطے بھی استعمال میں لا سکتے ہیں۔

ایرانی حکومت سرکاری طور پر اپنے شہریوں کو دوسرا پاسپورٹ رکھنے کی اجازت نہیں دیتی تاہم غیر ملکی پاسپورٹس خریدنے کی کارروائیوں پر مطلع ایک ایرانی ذریعے کا کہنا ہے کہ ایرانی وزارت انٹیلی جنس نے تجارتی سیکٹر میں بعض سینئر شخصیات کو ان پاسپورٹس کے حصول کے سلسلے میں گرین سگنل دے دیا تا کہ سفر اور مالی معاملات کو آسان بنایا جا سکے۔

کوموروس کے سابق وزیر داخلہ حمید مسیدی نے اس شک کا اظہار کیا ہے کہ "بعض ایرانی باشندے پابندیوں کو چکمہ دینے کے لیے کوموروس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں"۔

امریکی کانگریس میں تحقیقی خدمات کے لیے مشرق وسطی کے امور کے ماہر کینیتھ کیٹزمین کا کہنا ہے کہ کوموروس اُن متعدد افریقی ممالک میں سے ایک ہے جہاں ایران اپنا سفارتی اور تجارتی رسوخ مضبوط بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ کیٹزمین کے مطابق کوموروس سے پاسپورٹس حاصل کر کے "یہ لوگ اپنے ایرانی ہونے کا انکشاف کیے بغیر بہت سے امور انجام دے سکیں گے"۔

رائٹرز نے کوموروس میں پاسپورٹس ڈیٹا بینک سے متعلق جو معلومات حاصل کیں، ان کے مطابق 2008ء سے 2017ء کے دوران ایران میں پیدا ہونے والے ایک ہزار افراد نے کوموروس کا پاسپوٹ خریدا۔

ان میں زیادہ تر پاسپورٹ 2011ء سے 2013ء کے درمیان خریدے گئے جب ایران پر بالخصوص تیل اور بینکنگ سیکٹر میں بین الاقوامی پابندیاں سخت کر دی گئی تھیں۔

کوموروس سے پاسپورٹ خریدنے والے دیگر افراد کا تعلق شام، افغانستان، عراق، چین اور بعض مغربی ممالک سے ہے۔

کوموروس جس کی کُل آبادی 8 لاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔ اس نے پاسپورٹ فروخت کرنے کا پروگرام 2008ء میں شروع کیا تھا۔ اس پروگرام کا مقصد سیالیت کا حصول تھا جس کی اُس وقت شدّت سے ضرورت تھی۔

ادھر کوموروس معیشت کی ترقی میں امداد کے واسطے کروڑوں ڈالر کے حصول کے لیے کوشاں تھا۔ کوموروس اُس وقت ایران کے ساتھ تعلقات قائم کر رہا تھا۔ سال 2006ء سے 2011ء کے دوران ملک کے صدر احمد عبداللہ محمد سامبی تھے جو کئی برس ایران کے شہر قُم میں زیر تعلیم رہے۔

رائٹرز سے بات چیت کرنے والے بعض مقامی ذرائع کے مطابق صدر سامبی کے ذاتی محافظین میں ایرانی بھی شامل تھے اور ملک کے بعض لوگ انہیں "کوموروس کا آیت اللہ" قرار دیتے تھے۔ سامبی نے 2008ء میں تہران کا دورہ بھی کیا۔ مغرب کی جانب سے تہران کو پیٹھ دکھائے جانے کے بعد اُس وقت کے ایرانی صدر محمود احمدی نژاد افریقی ممالک اور لاطینی امریکا کے بعض ممالک کے ساتھ تعلقات استوار کرنے میں مصروف تھے۔ اس دوران احمدی نژاد نے کوموروس کا دورہ بھی کیا۔

رائٹرز کے مطابق سامبی کے دور صدارت میں کوموروس کی جانب سے ایران کو 3 لاکھ سے زیادہ پاسپورٹس فروخت کیے گئے۔

سامبی رواں برس 19 مئی سے اپنے گھر میں نظر بند ہیں۔ حکومت نے ان پر ہنگامہ آرائی اور شورش کے لیے اکسانے کا الزام عائد کیا ہے۔ سامبی کے وکیل کا کہنا ہے کہ اُن کے مؤکل پر عائد پابندیاں حکومت کی جانب سے اپنے مخاصم سے چھٹکارہ حاصل کرنے کی کوشش ہے۔

سال 2016ء میں کوموروس نے ایک مختلف خارجہ پالیسی اختیار کرتے ہوئے تہران کے ساتھ تعلقات منقطع کر لیے۔ رواں برس مئی میں عثمان غزالی کی سربراہی میں نئی انتظامیہ نے اقتدار سنبھالا اور وہ ابھی تک نئی پالیسی پر ہی عمل پیرا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں