یونیسکو کی جانب سے "الاحساء" کو منتخب کرنے کا راز کیا ہے ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کے ضلعے الاحساء نے اپنے قدرتی حسن و جمال کے ذریعے اقوام متحدہ کی ذیلی تنظیم یونیسکو کی توجہ حاصل کر لی۔ یہاں ہزاروں برس پرانی تہذیبیں سمائی ہوئی ہیں اور مملکت کے اہم آثاریاتی اور تاریخی مقامات موجود ہیں۔ ان مقامات میں مسجد جواثا شامل ہے جہاں اسلامی تاریخ کا دوسرا جمعہ منعقد ہوا۔ اس کے علاوہ جبلِ قارہ ہے جو گرمیوں میں ٹھنڈا اور سردیوں میں گرم رہتا ہے۔ الاحساء میں خلیج عربی کا قدیم ترین بازار القیصریہ، عسکری مقام قصرِ ابراہیم اور العقیر کی تاریخی بندرگاہ بھی ہے۔

الاحساء کو دنیا کا سب سے بڑا نخلستان شمار کیا جاتا ہے جہاں کھجور کے 30 لاکھ درخت ہیں۔ یہاں کی اراضی بڑی زرخیر ہے جس کا رقبہ 5.3 لاکھ مربع کلو میٹر ہے۔ اس کا محل وقوع امتیازی حیثیت کا حامل ہے کہ یہ خلیج تعاون کونسل کے ممالک کو مربوط کرتا ہے۔

الاحساء کے سکریٹری انجینئر عادل الملحم نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ "یونیسکو کی عالمی ورثے کی کمیٹی کی جانب سے الاحساء کو ثقافتی قدرتی منظر کی حیثیت سے عالمی ورثے کی فہرست میں شامل کیا جانا الاحساء کی عظیم تاریخی حیثیت کا عالمی سطح پر اعتراف ہے"۔

الملحم کے مطابق الاحساء کے دامن میں آثاریاتی اور تاریخی خزانے موجود ہیں جو پانچ ہزار سال قبل مسیح تک پھیلے ہوئے ہیں۔ الاحساء تہذیبی اور ثقافتی منظرنامہ پیش کرتا رہے گا جو دنیا کو حقیقی ورثے کی عظیم تاریخ سناتا ہے۔

الاحساء کی شان و شوکت کو باور کرانے کے لیے کیمرہ مین ناصر الناصر نے اپنے کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کیے گئے اس کے بعض شان دار مناظر کو العربیہ ڈاٹ نیٹ کے قارئین کے لیے پیش کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں