.

اردن کی ثالثی میں شامی اپوزیشن اور روس میں فائر بندی کے لیے بات چیت

روس کا اپوزیشن گروپوں سے ہتھیار پھینکنے کا مطالبہ، اپوزیشن کی مخالفت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے جنوبی شہر درعا میں جنگ روکنے کے لیے شامی اپوزیشن اور روسی فوج کے درمیان اردن کے توسط سے دوبارہ بات چیت کی کوششیں شروع کی گئی ہیں۔

’العربیہ‘ کے مطابق بصری الشام کے مقام پر شامی اپوزیشن اور روسی فوج کے نمائندوں نے اردنی حکام کی موجودگی میں بات چیت کی ہے۔

قبل ازیں ہفتے کے روز شامی اپوزیشن اور روس کے درمیان درعا میں جنگ بندی کے حوالے سے ہونے والے مذاکرات ناکام ہو گئے تھے۔

اپوزیشن کا کہنا ہے کہ ہفتے کے روز مذاکرات کی ناکامی کی وجہ روس کی طرف سے پیش کردہ شرائط تھیں۔ مذاکرات میں ناکامی کے بعد اردن نے ملک کی شمالی سرحد پر دوبارہ لڑائی چھڑنے کا خدشہ ظاہر کیا تھا جس کے بعد عمان نے شامی اپوزیشن اور روسی حکام کے درمیان بات چیت میں معاونت کی کوششیں شروع کی ہیں۔

شامی اپوزیشن کے شعبہ اطلاعات کے انچارج احمد رمضان نے کہا کہ شامی اپوزیشن کا متفقہ مطالبہ ہے کہ جن علاقوں پر اسد رجیم کے ساتھ مفاہمت ہو چکی ہے وہاں شامی اور روسی فوج مداخلت نہ کرے اور اسدی فوج اپنی سابقہ پوزیشنوں پر واپس جائے۔

دوسری جانب روس نے درعا میں موجود اپوزیشن کے تمام عسکری گروپوں کو ہتھیار پھینک کرعلاقے میں حکومتی رٹ کے قیام میں مدد پر زور دیا ہے۔ تاہم اپوزیشن نے روس کی طرف سے ہتھیار ڈالنے کی شرط کو بات چیت کو تعطل کا شکار کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔