.

اسد رجیم نے ننھی کلیاں بھون ڈالیں، لرزہ خیز مناظر دل تھام لیں!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے جنوبی شہر درعا میں ایک بار پھر اسد رجیم اور ایرانی گماشتوں کے ہاتھوں قیامت برپا ہے۔ ہرطرف لاشیں، زخمیوں کی آہ وبکا اور تباہی، بربادی کے لرزہ خیز اور دل دہلا دینے والے خوفناک مناظر دیکھے جا رہے ہیں۔

درعا شہر میں اسد رجیم کی سرکاری فوج، ایرانی ملیشیا اور روسی فوج سب مسلسل حملے کر رہے ہیں۔ شامی اپوزیشن اور روس کے درمیان مذاکرات کی کوشش کے باوجود درعا میں قتل عام کا سلسلہ روکا نہیں جا سکا ہے۔

شام کے ایک مقامی فوٹو گرافر انس الشامی نے اپنے کیمرے کی آنکھ میں درعا میں ڈھائی جانے والی قیامت کے بعض لرزہ خیز مناظر مخفوظ کئے ہیں۔ ان میں بیشتر مناظر ان بچوں کے ہیں جو اسدی فوج کی درندگی کی بھینٹ چڑھ کر عالمی امن کے ٹھیکے داروں کا منہ چڑا رہے ہیں۔

’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ کا نعرہ مستانہ بلند کرنے والے بشارالاسد اور اس کے حواری ان ننھے منھے اور معصوم بچوں کو بھون ڈالنے پر کیا جواز پیش کریں گے جنہیں آسمان سے آگ اور باردو برسا کر ہمیشہ کے لیے موت کی نیند سلا دیا۔

بچوں پر بمباری کے مناظر، دل تھام لیجیے

انس الشامی کے کیمرے میں محفوظ ہونے والے بعض مناظر کو انہوں نے سوشل میڈیا پر شیئر کیا ہے۔ وہیں سے کچھ تصاویر ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ نے اپنے قارئین اور ناظرین کے لیے منتخب کی ہیں۔ یہ تصاویر کمپیوٹر یا کیمرے کی صفائی نہیں بلکہ اسد رجیم کی ڈھٹائی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

ان تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بمباری میں بچوں کے جسمانی اعضاء کے چیتھڑے اڑا دیے گئے ہیں۔ کسی کا بازو نہیں تو کسی کی ٹانگیں کٹ چکی ہیں۔ کسی کا سر تن سے جدا ہے اور کسی کا دھڑ غائب ہے۔ اس قدر بے رحمی کے ساتھ بمباری کی گئی ہے کہ شہید ہونے والے ان کم سن معصوم بچوں کی شناخت تک مشکل ہو چکی ہے۔

شہید بچی کی نیم وا آنکھیں کیا کہتی ہیں؟

انس الشامی نے ’فیس بک‘ پر ایک شہید بچی کی تصویر پوسٹ کی ہے جس کی آدھی آنکھیں کھلی دکھائی دیتی ہیں۔ الشامی کا کہنا ہے کہ اس بچی کی شناخت نہیں ہو سکی کہ یہ کس کا لخت جگر ہے۔ اس کا پورا جسم خون میں لت پت ہے۔ اسے کسی آتشیں گولے سے نشانہ بنایا گیا۔ تصویر دیکھ کر پتھر دل انسان بھی پسیج گئے ہیں۔ شہیدہ کی آدھی کھلی آنکھیں دنیا میں امن کے عمل برداروں کو اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دعوے داروں کو دعوت فکر دیتی ہیں۔

شیر خوار ناریمان کا جسم زخموں سے چور

الشامی کی جانب سے سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی تصاویر میں ایک تصویر ’ناریمان‘ نامی بچی کی ہے۔ ناریمان روسی فوج کی وحشیانہ بمباری کے نتیجے میں شدید زخمی ہونے کے بعد درد ناک موت سے دوچار ہوچکی ہے۔

ناریمان ایک شیر خوار بچی ہے۔ زخمی ہونے کے بعد اسے کسی قسم کی طبی سہولت نہ مل سکی اور اس کی زندگی نہ بچائی جا سکی۔ اس کا جسم بھی سر سے پاؤں تک زخموں سے چور اور خون میں اٹا ہوا ہے۔

شہید خاتون کی کھلی آنکھیں

درعا میں ڈھائی جانے والی قیامت کے دل دہلا دینے والے مناظر میں ایک خاتون کی تصویر بھی شامل ہے جو اسدی فوج کی بمباری کے نتیجے میں شہید ہو گئی۔ اس کا جسد خاکی زمین پر پڑا ہے اور اس کی آنکھیں بھی کھلی ہیں۔ اس کی لاش کے قریب ساتھ ساتھ سفید ہیلمٹ والے ایک کارکن کی لاش پڑی دیکھی جا سکتی ہے۔ اس نے دوسروں کی جان بچانے کی کوشش کے دوران اپنی زندگی قربان کر دی۔