.

الحدیدہ صوبے میں حوثیوں کے حملے یمنی فوج کے ہاتھوں پسپا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں سرکاری فوج اور عوامی مزاحمت کاروں نے اعلان کیا ہے کہ گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران الحدیدہ شہر کے جنوب میں دو ضلعوں التحیتا اور الدریہمی میں سرکاری فوج کے مراکز پر حوثی ملیشیا کی جانب سے حملوں اور دراندازی کی کئی کوششوں کو ناکام بنا دیا گیا۔

یمنی فوج کے ذرائع کے مطابق اس دوران ہونے والے مقابلوں کے نتیجے میں باغی ملیشیا کے درجنوں ارکان ہلاک اور زخمی ہو گئے جب کہ 30 سے زیادہ جنگجوؤں کو گرفتار کر لیا گیا۔

زمینی ذرائع کے مطابق مارے جانے والوں میں التحیتا ضلعے میں حوثیوں کے گروپ کے دو کمانڈر حمد يحيى احمد (عُرف ابو خالد) اور حمود احمد ابو حلفہ (عُرف ابو نصر) اپنے درجنوں ساتھیوں سمیت شامل ہیں۔

یمنی فوج اور عوامی مزاحمت کاروں نے عرب اتحاد کی فضائی معاونت کے ساتھ التحیتا اور الدریہمی ضلعوں میں حوثی ملیشیا کے ٹھکانوں پر جوابی حملے کیے۔ اس دوران اتحادی لڑاکا طیاروں نے تعز اور الحدیدہ کے درمیان مرکزی راستے کے علاوہ زبید اور الجراحی کے ضلعوں میں بھی حوثی باغیوں کے جتھوں کو نشانہ بنایا۔

مقمامی ذرائع کے مطابق حوثی ملیشیا نے الحدیدہ کے جنوب مشرق میں تین ضلعوں بیت الفقیہ، زبید اور الجراحی کے درمیان مرکزی شاہراہ کو کئی بڑی خندقیں کھود کر بند کر دیا۔ حوثیوں نے ریت کی دیواریں قائم کر لیں اور زبید کے علاقے میں وسیع پیمانے پر مقامی آبادی میں گرفتاریاں کیں۔