.

حوثیوں کے ہاتھوں ہلاک ہونے والی یمنی بچّی کی دل دوز وڈیو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں حوثی ملیشیا نے اتوار کی شام ایک نئے قتل عام کا ارتکاب کیا جس کا نشانہ بن کر متعدد یمنی بچّے جاں بحق اور زخمی ہو گئے۔

مقامی ذریعے کے مطابق باغی حوثیوں نے تعز شہر کے مشرقی حصّے میں الکمب کے رہائشی علاقے پر ایک راکٹ داغا جس کے نتیجے میں 5 سالہ بچّی رہف احمد عبداللہ اور 27 سالہ نوجوان صالح احمد شملان اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

ان کے علاوہ حملے میں 5 بچّے زخمی بھی ہوئے جن میں بعض کو خطرناک زخم آئے ہیں۔ زخمی بچوں کی عمریں 3 سے 7 برس کے درمیان ہیں۔

اس حوالے سے یمنی حلقوں کی جانب سے ایک وڈیو گردش میں آئی ہے جس میں پانچ سالہ مقتولہ بچّی رہف کی ماں اپنی بیٹی کی لاش کو گود میں لیے غم سے دوہائی دیتی نظر آ رہی ہے۔

تعز صوبے میں مقامی حکام نے ایک بیان میں حوثیوں کے اس جرم کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے "دہشت ناک" قرار دیا ہے۔ حکام نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ تعز کے لوگوں کے خلاف حوثی ملیشیا کی ان کارستانیوں کے روکنے کے واسطے کھڑے ہوں۔

بیان میں اقوام متحدہ، سلامتی کونسل اور انسانی حقوق کی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شہریوں کو نشانہ بنائے جانے اور گنجان آباد علاقوں پر بم باری کے جرائم کی فوری تحقیقات کرائیں۔