الحدیدہ : اقوام متحدہ پر حوثیوں کی کارستانیوں سے چشم پوشی کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

یمن کے صوبے الحدیدہ کے لوگوں نے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی مارٹن گریفتھ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ الحدیدہ کا دورہ کریں تا کہ صوبے میں حوثی ملیشیا کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے آگاہ ہو سکیں۔ گریفتھ ان دنوں صنعاء کا دورہ کر رہے ہیں۔

الحدیدہ کے لوگوں نے اقوام متحدہ اور اس کے ایلچی سے فوری مداخلت کا مطالبہ بھی کیا تا کہ مقامی آبادی کی مشکلات ختم کی جا سکیں۔ ساتھ ہی اقوام متحدہ پر الزام عائد کیا گیا کہ وہ حوثیوں کے ہاتھوں الحدیدہ کے لوگوں کو درپیش قتل، گرفتاری اور جبری روپوشی کے واقعات سے چشم پوشی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔

دوسری جانب یمن میں عرب اتحاد کے سرکاری ترجمان کرنل ترکی المالکی نے پیر کے روز بتایا کہ اقوام متحدہ کو الحدیدہ شہر اور اس کی بندرگاہ کی آزادی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کسی سیاسی حل تک پہنچنے کا راستہ تلاش کرنا چاہیے۔ المالکی کے مطابق اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی مارٹن گریفتھ کافی وقت دے چکے ہیں، انہوں نے تمام فریقوں کو مذاکرات کی میز پر اکٹھا کرنے کے واسطے پانچ مرتبہ یمن کا دورہ کیا۔

گریفتھ صنعاء میں حوثی قیادت سے ملاقات کر رہے ہیں جس کے دوران وہ الحدیدہ اور اس کی بندرگاہ سے انخلاء کا موضوع زیر بحث لائیں گے۔ یہ یمن کی حکومت اور عرب اتحاد کا دو ٹوک مطالبہ بھی ہے۔

ادھر بین الاقوامی تنظیم صلیبِ احمر نے یمن میں دوبارہ کام شروع کرنے اور صحت کے شعبے میں انسانی امدادات پیش کرنے کا اعلان کیا ہے۔ تنظیم کے مطابق اس کے کارکنان نے گزشتہ دو ہفتوں کے دوران الحدیدہ شہر اور دو ضلعوں الحوک اور المراوعہ میں سات ہزار سے زیادہ بے گھر افراد کو امداد پیش کی۔ یاد رہے کہ گزشتہ ماہ کے آغاز میں صلیب احمر نے اعلان کیا تھا کہ سلسلہ وار حادثات اور دھمکیوں کے سبب اُس نے یمن میں کام کرنے والے اپنے 71 کارکنان کو واپس بلا لیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں