.

عراق نے شام کی سرحد پر حفاظتی باڑ لگانا شروع کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کی بارڈر سیکیورٹی فورسز نے شام سے متصل ملک کی مغربی سرحد پر حفاظتی باڑ کے منصوبے پر کام شروع کردیا ہے۔ اس باڑ کے قیام کا مقصد سرحد پار سے انتہا پسندوں کی دراندازی روکنا ہے۔

الانبار گورنری کے بارڈر سیکیورٹی فورسزکے ترجمان کرنل انور حمید نایف نے بتایا کہ فوج نے دس روز قبل شام کی سرحد سے متصل علاقے میں خار دار تار بچھانے اور کنٹرول ٹاور قائم کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پہلے مرحلے میں 20 کلو میٹر کے علاقے میں حفاظتی باڑ لگائی جائے گی۔ اس باڑ کا مقصد دہشت گردوں کے عراق میں داخلے کی راہ روکنا ہے۔

اگرچہ عراق نے ’داعش‘ کے خلاف جنگ میں شدت پسندوں کےقبضے سے تمام علاقے واگذرا کرالیے ہیں مگر بغداد کا کہنا ہے کہ شام اور عراق کے دشوار گذارعلاقوں میں داعش کے جنگجو اب بھی چھپے ہوئے ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان وسیع رقبے پر پھیلا صحرا داعش کے جنگجوؤں کا نیا مسکن بتایا جاتا ہے۔

عراق کے شمالی سرحدی شہر دیالی اور کرکوک میں امن وامان کی صورت حال اب بھی ابتر ہے اور شدت پسند ناکے لگا کر لوگوں کو روکنے اور اغواء کی کارروائیاں کررہے ہیں۔

خبر رساں ادارے’اے ایف پی‘ کے مطابق عراقی حکام شام کی سرحد کے ساتھ چھ میٹر چوڑی اور تین میٹر گہری خندوق کھودنے پر بھی کام شروع کریں گے جب کہ سرحدی نگرانی کے لیے ڈرون طیاروں کا بھی استعمال کیا جائے گا۔