اردن: انسانی امداد پہنچانے کے لیے شام کی سرحد پر 3 گزر گاہیں کھول دیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اردن کی حکومت نے بدھ کے روز شام کے ساتھ سرحد پر 3 گزر گاہیں کھولنے کا اعلان کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد شام کے بے گھر افراد کے لیے انسانی امداد کے سامان کو پہنچانے کا عمل تیز کرنا ہے۔

اس حوالے سے حکومتی ترجمان جمانہ غنیمات نے کھولی جانے والی گزر گاہوں کے بارے میں تفصیلات نہیں بتائیں تاہم اُن کا کہنا تھا کہ انسانی امداد لے جانے والے 36 اردنی ٹرک شام کی جانب سرحد عبور کر چکے ہیں۔

اردن کی فوج نے ایک بیان میں اس اندیشے کا اظہار کیا تھا کہ داعش تنظیم اور دیگر شدت پسند عناصر جنوبی شام مین درعا صوبے سے فرار اختیار کرنے والوں کے بحران سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

اردن کی فوج کے متعلقہ عہدے دار نے الحدث نیوز چینل کے ساتھ رابطے میں بتایا کہ اردن ابھی تک شام کے پناہ گزینوں کے لیے اپنی سرحد کی بندش کے فیصلے پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے باور کرایا کہ اردن کو تشویش ہے کہ پناہ گزینوں کے داخل ہونے کی صورت میں ان کے درمیان دہشت گرد عناصر بھی دراندازی کر لیں گے۔

دوسری جانب اردن کی حکومت کی ترجمان جمانہ غنیمات نے ایک روز کے توقّف کے بعد اردن کی ثالثی سے شامی اپوزیشن اور روسی عسکری عہدے دار مذاکرات کی طرف واپس آ گئے ہیں۔

غنیمات کے مطابق جنوبی شام کی نمائندگی کے لیے ایک وسیع مذاکراتی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے تا کہ بے قصور افراد کے خون اور شہریوں کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے معاہدہ طے پا جائے اور پھر ایک حتمی سیاسی حل کے واسطے راہ ہموار ہو سکے۔

اس سے قبل اردن دس کے قریب شامی قصبوں کے حوالے سے کامیاب مذاکرات میں اپنا کردار ادا کر چکا ہے۔

ادھر شام کے قصبے بصری الشام میں مقامی کونسلوں اور انجمنوں کے نمائندوں نے مسلح شامی اپوزیشن کے ذیلی گروپ شباب السنہ کے روس کے ساتھ انفرادی طور پر طے کیے گئے معاہدے کو مسترد کر دیا ہے۔

شباب السنہ گروپ کے روس کے ساتھ طے پائے جانے والے معاہدے کے تحت بصری الشام قصبے کو بشار الاسد حکومت کے حوالے کیا جانا تھا۔ تاہم مقامی لوگوں کو اپنے قصبے کے مستقبل کے حوالے سے کچھ علم نہیں۔ واضح رہے کہ اس وقت شباب السنہ واحد عسکری گروپ ہے جس کا قصبے پر کنٹرول ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں