کمپیوٹر کے شعبے میں مہارت کا حامل نابینا سعودی بچّہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب میں ایک 12 سالہ بچّے نے پیدائشی طور پر نابینا ہونے کے باوجود اس محرومی کو اپنی زندگی میں رکاوٹ بننے نہیں دیا۔ جی ہاں مازن الحربی نے کمپیوٹر اور اسمارٹ ڈیوائسز کی ٹکنالوجی میں مہارت حاصل کرنے کے علاوہ ونڈوز اور میکنٹوش سسٹمز میں پروگرامز انسٹال کرنا بھی سیکھ لیا۔

مازن کو اپنے بھائیوں، عزیز و اقارب اور اسکول میں دوستوں کی جانب سے بھرپور سپورٹ حاصل رہی اور وہ مستقبل میں کمپیوٹر یا انگریزی زبان کے میدان میں یونیورسٹی کی تعلیم حاصل کرنے کا خواہش مند ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے مازن کے والد مطر ابراہیم الحربی نے بتایا کہ "مازن کے پیدائشی طور پر بینائی سے محروم ہونے کا جان کر ہمیں بہت صدمہ پہنچا تھا۔ ابتدا میں ہمیں اس کی زندگی کے حوالے سے خوف اور اندیشے رہے تاہم اب مازن 12 برس کا ہو چکا ہے اور اور اپنی تعلیم اور کمپیوٹر کے میدان میں امتیازی صلاحیت کا حامل ہے۔ اسمارٹ ڈیوائسز پر کام کرنا اس کا مشغلہ ہے۔ ساتھ ہی وہ اپنی تعلیم اور قرآن کریم کے حفظ کے سلسلے میں بھی ہونہار ثابت ہوا ہے۔ مازن کو بریدہ میں نابینا افراد کی سوسائٹی کی جانب سے بھرپور سپورٹ حاصل ہے جہاں آنکھوں کی روشنی سے محروم افراد کو اسمارٹ ڈیوائسز کے استعمال کی تربیت دی جاتی ہے"۔

مازن کے والد نے مزید بتایا کہ ان کا بیٹا خاندان والوں اور دوستوں کے کمپیوٹر درست کر لیتا ہے۔ وہ ہمیشہ سے بہت سے امور میں خود پر انحصار کرتا ہے۔ اس کے پاس نابینا افراد کے لیے تیار کیا گیا موبائل فون بھی ہے جو اسے القصیم یونیورسٹی کے سربراہ نے دیا۔

اس سلسلے میں مازن کا اپنا کہنا ہے کہ "میں نے اپنی معذوری کو اپنے راستے کی رکاوٹ نہیں بننے دیا اور ہر مشکل کو چیلنج کیا۔ میں کمپیوٹر اور اسمارٹ ڈیوائسز کی زیادہ تر ٹکنالوجیز سے واقف ہو چکا ہوں۔ میں اپنا فارغ وقت بھی جدید ٹکنالوجیز سیکھنے میں صرف کرتا ہوں۔ میں جدید ترین پروگرامنگ لیگویجز سیکھنے کا خواہش مند ہوں۔ نابینا افراد کی سپورٹ کے لیے بھی ٹکنالوجیز ہیں جن کی وجہ سے مجھے اس میدان میں کوئی مشکل پیش نہیں آتی"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں