یمنی فوج نے الحدیدہ میں مزید کمک بھجوادی، سپلائی لائنوں کی سیکیورٹی سخت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمن کے عسکری ذرائع کے مطابق ساحلی شہر الحدیدہ میں باغیوں کے انخلاء کی پرامن کوششوں میں ناکامی کے بعد فوجی کارروائی کے امکانات میں اضافہ ہو گیا ہے۔ کسی بھی مُمکنہ فوجی کارروائی کے لیے الحدیدہ میں سرکاری فوج کو تازہ دم دستے پہنچا دیے گئے ہیں جب کہ المخاء اور الحدیدہ کےدرمیان سپلائی لائنوں کی سیکیورٹی بھی مزید سخت کردی گئی ہے۔

یمن کے عسکری حکام کا کہنا ہے کہ مغربی ساحلی محاذ پر فوج کو نئے معرکے کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔ الحدیدہ شہراور بندرگاہ کو حوثی باغیوں سے چھڑانے کے لیے پُرامن کوششوں کی ناکامی کے بعد وسیع پیمانے پر آپریشن شروع کیا جا سکتا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کے یمن کے لیے خصوصی ایلچی کی طرف سے دی گئی ڈیڈ لائن ختم ہونے کے بعد حالات ڈرامائی انداز میں تبدیل ہوسکتے ہیں۔

دوسری جانب حوثی باغیوں نے بھی الحدیدہ میں ممکنہ فوجی آپریشن کے پیش نظر اسلحہ اور جنگجوؤں کو الحدیدہ پہنچانا شروع کردیا ہے۔

خیال رہے کہ تزویراتی اہمیت کے حامل یمن کے ساحلی شہر الحدیدہ اور اس کی بندرگاہ کو چھڑانے کے لیے اقوام متحدہ کی ثالثی کی کوششوں کے بعد فوجی آپریشن روک دیا گیا تھا۔ اقوام متحدہ کے مندوب یمنی حکومت اور حوثی باغیوں کے درمیان الحدیدہ کے حوالے سے بات چیت کررہے ہیں۔ شہر اور بندرگاہ سے باغیوں کو پرامن طریقے سے نکالنے کی پرامن مساعی میں کوئی قابل ذکر پیش رفت نہیں ہوسکی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں