"امارات نے اپنے ہاں مقیم قطریوں کی بیدخلی کا کوئی اقدام نہیں کیا"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ 5 جون 2017ء کو قطر سے سفارتی تعلقات کے خاتمے کے بعد سے اب تک امارات میں مقیم قطری شہریوں کے خلاف کسی قسم کے انتظامی یا قانونی اقدامات نہیں اٹھائے ہیں۔

یو اے ای کی خبر رساں ایجنسی "وام" نے دفتر خارجہ کے حوالے سے بتایا ہے کہ متحدہ عرب امارات میں رہائش پذیر قطری شہریوں کو کسی قسم کا ڈیکلریشن جاری کرنے کی ضرورت نہیں ہے، تاہم یو اے ای میں رہائش پذیر قطریوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ اگر وہ متحدہ عرب امارات سے کسی دوسرے ملک سفر کا ارادہ رکھتے ہوں تو ایسے میں وہ ریاست میں دوبارہ داخلے کی پیشگی اجازت لے کر بیرون ملک کا سفر اختیار کریں۔

ایسی پیشگی اجازت کے حصول کی خاطر اماراتی حکومت نے 11 جون 2017 کو ہاٹ لائن قائم کر دی تھی جس کا نمبر 009718002626 ہے۔

اماراتی وزارت خارجہ کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ دوحا کی جانب سے متحدہ عرب امارات کے خلاف جھوٹے دعووں کے بعد یہ بات ضروری ہو گئی تھی کہ یو اے ای میں مقیم قطری شہریوں کے بیرون ملک سفر اور ریاست میں قیام سے متعلق چند شرائط لاگو کی جائیں۔

وزارت خارجہ نے یاد دلایا کہ 5 جون 2017ء کے بعد قطر سے سفارتی تعلقات خاتمے کے بعد سے متحدہ عرب امارات نے اپنے ہاں مقیم قطری شہریوں کے خلاف کسی قسم کے انتظامی اور قانونی اقدامات لاگو نہیں کئے، حتی کہ ہم نے سفارتی تعلقات خاتمے کے اعلان کے وقت قطری شہریوں کو چودہ دنوں میں یو اے ای سے نکل جانے کا جو اعلان کیا تھا، اس پر بھی عمل سے گریز کیا گیا، تاہم قطری شہریوں کے بیرون ملک سفر سے پہلے اماراتی حکام کو اطلاع جیسی شرائط لاگو کرنے پر اماراتی حکام کو بہت زیادہ افسوس ہے۔ ہم قطری عوام کا مکمل احترام کرتے ہیں۔

ادھر متحدہ عرب امارات نے اس امر کا ایک مرتبہ پھر اعادہ کیا ہے کہ وہ قطری شہریوں کو گزند پہنچائے بغیر اماراتی عوام اور علاقائی سلامتی سے متعلق قطری اقدامات کا توڑ کرنے کے لئے اپنی پالیسی جاری رکھے گا۔

"ہم قطر سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ دہشت گرد تنظیموں اور ان سے وابستہ افراد کو تحفظ فراہم کرنے کی روش ترک کرتے ہوئے اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کرے۔ نیز ہمسایہ ملکوں کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے باز رہے اور اپنے ہاں سے نشریات پیش کرنے والے ابلاغی اداروں اور دینی رہنماوں کو سرکاری سرپرستی میں چلنے والے ایسے پلیٹ فارمز پیش کرنے سے اجتناب کرے کہ جن سے انتہا پسندی کا پرچار کیا جاتا ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں