درعا: شامی حکومتی فوج کی اردن کی سرحد کی جانب پیش قدمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شام میں انسانی حقوق کے نگراں گروپ المرصد السوری نے جمعے کے روز اس امر کی تصدیق کی ہے کہ شامی حکومتی فوج کے لڑاکا طیاروں نے ملک کے جنوب میں نصیب، طفس اور النعیمہ کے قصبوں کے اطراف ایک بار پھر حملے کیے ہیں۔ اس دوران جنگی طیاروں نے درعا قصبے پر 10 بیرل بم بھی گرائے۔

ادھر بشار الاسد کی فوج نے شام اور اردن کی سرحد پر ایک عسکری آپریشن شروع کر دیا ہے۔ اس کارروائی کا مقصد نصیب کی سرحدی گزر گاہ تک پہنچنا ہے۔

دوسری جانب شامی اپوزیشن کی جیشِ حُر کے مرکزی کنٹرول روم کے ترجمان ابراہیم الجباوی کے مطابق اردن کی کامیاب ثالثی کے بعد روسی افسران کے شامی اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کا دوبارہ آغاز آج جمعے کے روز ہو رہا ہے۔ اس بات بات چیت کا مقصد ایک ایسا حتمی معاہدہ یقینی بنانا ہے جس کے ذریعے لڑائی کا خاتمہ ہو اور درعا صوبے کو شامی حکومت کے کنٹرول میں دے دیا جائے۔

الجباوی نے توقع ظاہر کی ہے کہ فریقین جمعے کے روز بات چیت کا انعقاد شام کے جنوبی قصبے بصری الشام میں کریں گے جہاں ہفتے کے روز سے مذاکرات کے چار ادوار پہلے ہی ہو چکے ہیں۔ تاہم کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ ہو سکی۔

اس سے قبل روسی لڑاکا طیاروں نے بدھ کے روز دراع کے نواحی دیہی علاقوں پر اپنی بمباری تیز کر دی تھی۔

المرصد نے جمعرات کے روز بتایا کہ جنوبی شام میں سیکڑوں فضائی حملوں کے دوران کئی قصبوں کو نشانہ بنایا گیا۔

المرصد کے مطابق بدھ کی رات سے اب تک 600 سے زیادہ فضائی حمل کیے گئے اس دوران بم باری کے علاوہ بیرل بم کے ذریعے بھی نشانہ بنایا گیا۔ المرصد گروپ کا کہنا ہے کہ شامی حکومت اور روسی فوج کے لڑاکا طیارے ان علاقوں کو جہنم میں بدل رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں