شام میں عراقی ملیشیا کے ٹھکانوں پر اسرائیلی حملوں کی تصاویر جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے 18 جون کو شام کے شہر البوکمال میں عراقی حزب اللہ کے ان ٹھکانوں کی فضائی تصاوی جاری کی ہیں جنہیں مبینہ طورپر اسرائیلی فوج نے نشانہ بنایا تھا۔

’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کے مطابق 18 جون کو البوکمال میں نامعلوم جنگی طیاروں نے فضائی حملے کرکے عراقی ملیشیا کے 55 جنگجو ہلاک کردیے تھے۔

اسد رجیم اور عراقی ملیشیا نے ان حملوں کا الزام امریکا پر عاید کیا تھا تاہم امریکا نے ان حملوں کی سختی سے تردید کی تھی۔

گذشتہ روز اسرائیل کے ملٹری بیٹ کی کوریج کرنے والے صحافی اور نامہ نگار ’الون ڈیوڈ‘ نے ’ٹوئٹر‘ پر ان مقامات کی تصاویر جاری کیں جنہیں مبینہ طور پراسرائیلی جنگی طیاروں نے نشانہ بنایا تھا۔ اسرائیلی صحافی نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ ان ٹھکانوں پر اسرائیلی فوج نے بم باری کی تھی۔

خیال رہے کہ مشرقی شام کے البوکمال شہرمیں بمباری کے نتیجے میں دسیوں ایرانی اور عراقی جنگجو ہلاک ہوگئے تھے۔

پینٹا گون کے ترجمان اڈرین رانکین گالاوی نے کہا تھا کہ ’داعش‘ مخالف عالمی اتحاد ان حملوں کا ذمہ دار نہیں۔ یہ حملے امریکا نے کیے اور نہ ہی ان میں عالمی اتحاد میں شامل کوئی ملک ملوث ہے۔

اسی دوران شام کے سرکاری خبر رساں ادارے’سانا‘ نے عسکری ذرائع کے حوالے سے بتایا تھا کہ امریکی فوج نے جنوب مشرقی البوکمال میں ’الھری‘ کے مقام پر ہمارے فوجی مراکز پر بمباری کی ہے جس کے نتیجے میں شامی فوج کے اہلکاروں سمیت کئی جنگجو ہلاک اور زخمی ہوگئے ہیں۔

قابل ذکر رہے کہ ان حملوں سے قبل اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے بھی شام میں عراقی ملیشیا کے جنگجوؤں کو سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کے خلاف ممکنہ کارروائی کا اشارہ دیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں