.

اسرائیل کی شام کے وادی گولان میں القنیطرہ کے مقام پر بمباری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قابض اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے شام کے وادی گولان میں سرحد سے متصل علاقے القنیطرہ میں ھاون راکٹ حملے کے بعد بمباری کی ہے تاہم اس حملے میں کسی قسم کے جانی نقصان کی تصدیق نہیں ہوسکی۔

اسرائیلی فوج کی طرف سے جاری کردہ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ شام میں وادی گولان سے داغا گیا ایک ھاون راکٹ مشرقی سرحدی کے اندر جا گرا تاہم اس کے نتیجے میں کوئی نقصان نہیں ہوا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ شام کے اندر سے داغا گیا راکٹ شامی رجیم اور باغیوں کے درمیان لڑائی کا نتیجہ ہے جسے دونوں میں سے کسی ایک فریق نے دوسرے کے خلاف استعمال کیا تھا۔

تاہم اسرائیلی فوج کی طرف سے جاری کردہ بیان میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ آیا بمباری کا نشانہ اسد رجیم کے مراکز بنے ہیں یا شامی اپوزیشن گروپوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

خیال رہے کہ اسرائیل نے سنہ1967ء کی چھ روزہ عرب ۔ اسرائیل جنگ کے دوران شام سے وادی گولان کا 1200 مربع کلو میٹر کا علاقہ چھین لیا تھا۔ سنہ 1981ء کو اسرائیل نے شام کے مقبوضہ علاقے کو صہیونی ریاست میں ضم کرلیا تھا۔ عالمی سطح پر یہ علاقہ اب بھی متنازع سمجھا جاتا ہے۔