روس کی مخالفت کے باوجود شام میں موجود ہیں : ایران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایران نے ایک بار پھر باور کرایا ہے کہ حلیف ملک روس کی مخالفت کے باوجود تہران کی عسکری فورسز شام میں باقی رہیں گی۔ اس سے قبل ماسکو ایرانی پاسداران انقلاب اور اس کے زیر انتظام تمام ملیشیاؤں کے شام سے باہر نکالے جانے کا مطالبہ کر چکا ہے۔

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر کے خصوصی معاون برائے بین الاقوامی امور حسین عبداللہیان کا کہنا ہے کہ "انسداد دہشت گردی" کے تحت شام میں ایرانی "عسکری مشیران" کی موجودگی جاری رہے گی۔

واضح رہے کہ بین الاقوامی اتحاد کے ہاتھوں داعش تنظیم کی ہزیمت کے بعد شام میں ایران کے بقاء کے تمام تر جواز ختم ہو چکے ہیں۔

فارس نیوز ایجنسی کے مطابق عبداللہیان نے اتوار کے روز تہران میں فلسطینی سفیر صلاح الزواوی کے استقبال کے دوران کہا کہ ان کا ملک مزاحمت کی پُر عزم حمایت جاری رکھے گا۔ یاد رہے کہ "مزاحمت" کا لفظ اریان خطے میں اپنی ہمنوا ملیشیاؤں کے واسطے استعمال کرتا ہے۔

حالیہ چند دنوں کے دوران شام میں ایرانی پاسداران انقلاب کے متعدد افسران مارے جا چکے ہیں۔ ان میں پاسداران کا دھماکا خیز مواد تیار کرنے والا 32 سالہ عسکری ماہر محمد ابراہیم رشیدی بھی شامل ہے جو شام میں تدمر اور دیر الزور کے درمیان راستے پر بارودی سرنگ پھٹنے سے ہلاک ہوا۔

دو ہفتے قبل شام میں حلب اور شمالی صوبوں میں ایرانی فورسز کا ذمّے دار اور پاسداران انقلاب کا ایک کمانڈر میجر جنرل شاہ رخ دائی پور بھی مارا گیا تھا۔

شام سے ایرانی فورسز اور اس کی ملیشیاؤں کے انخلاء کی ضرورت سے متعلق روسی اعلان کے بعد ایرانی فورسز بین الاقوامی اتحاد اور اسرائیل کے طیاروں کا کھلا ہدف بن چکی ہیں۔ گزشتہ ہفتوں کے دوران مختلف علاقوں میں ایرانی فورسز کو کئی فضائی حملوں کا نشانہ بنایا گیا جن کے دوران درجنوں ایرانی ارکان جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تاہم ایرانی میڈیا نے ان ہلاکتوں پر پردہ ڈالے رکھا۔

دوسری جانب ایران میں عوام نے حکمران نظام کی اُن پالیسیوں کے خلاف زبردست احتجاج کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے جن کے نتیجے میں ملک کے معاشی اور اقتصادی حالات بگڑ گئے اور ملکی کرنسی ڈھیر ہو گئی۔ اس کے مقابل ایرانی نظام عوام کا مال خطّے میں دہشت گردی اور ملیشیاؤں کی سپورٹ کے لیے لُٹا رہا ہے۔ اسی واسطے مظاہروں میں عوام یہ نعرہ لگانے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ "شام کو چھوڑو اور ہماری فکر کرو"۔

تہران نے شام میں پاسداران انقلاب کی فورسز بھیجنے اور بشار الاسد کو سالانہ 6 ارب ڈالر پیش کرنے کے علاوہ دیگر امداد کا سلسلہ بھی جاری رکھا ہوا ہے۔ اس میں مفت تیل اور 5.6 ارب ڈالر کے قرضے شامل ہیں۔ دوسری جانب ایران ملکی کرنسی کی قدر میں تاریخی گراوٹ، اشیاء صرف کی قیمتوں میں اضافے اور مہنگائی کے سبب اقتصادی بحران میں گھرا ہوا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں