سعودی عرب: گھریلو خادماؤں کی جانب سے مرتکب 10 بھیانک ترین جرائم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سعودی عرب میں گزشتہ چند برسوں کے دوران مختلف شہریتوں کی حامل گھریلو خادماؤں کی جانب سے قتل اور نقصان پہنچانے کی مختلف کارروائیوں کا ارتکاب کیا گیا۔

"العربیہ ڈاٹ نیٹ" کے مطابق اس دوران 10 بد ترین جرائم درجِ ذیل ہیں:

- سال 2010ء میں دمّام شہر میں ایک انڈونیشی خادمہ نے بھوک سے بلبلاتے 3 ماہ کے بچّے کو خاموش کرانے میں ناکامی کے بعد اس کے دودھ میں چوہے مار زہر ملا دیا۔ اس کے نتیجے میں بچّے کے گردوں اور پھیپھڑوں نے کام کرنا چھوڑ دیا۔

- ستمبر 2012ء میں ینبع شہر میں ایک انڈونیشی خادمہ نے تیز دھار آلے کے ذریعے ایک چار سالہ بچی کا سر تن سے جدا کر دیا۔ بچّی کی ماں نے گھر کا بیرونی دروازہ کھولنے کا مطالبہ کیا تو خادمہ نے انکار کر دیا۔ بعد ازاں شہری دفاع کی ٹیم دروازہ کھول کر داخل ہوئی تو معلوم ہوا کہ ایشیائی خادمہ نے کتنے بھیانک جرم کا ارتکاب کیا ہے۔

- دسمبر 2012ء میں جدہ شہر میں ایتھوپیا سے تعلق رکھنے والی ایک خادمہ نے اپنے کفیل کو قتل کر دیا۔ ملازمہ نے کفیل کے بیٹے کو بھی قتل کرنے کی کوشش کی اور اسے استری سے نشانہ بنا کر زخمی کر ڈالا۔

- سال 2013ء میں ایتھوپیا سے تعلق رکھنے والی ایک خادمہ نے الخرج شہر میں پانچ برس کے بچّے کو قتل کرنے کی کوشش کی تاہم وہ اللہ کے فضل سے بچ گیا۔ خادمہ نے بجلی سے چلنے والی گاڑی کے دروازے میں بچّے کی گردن پھنسا دی تھی۔

- سال 2014ء میں تبوک شہر میں ایتھوپیا سے تعلق رکھنے والی خادمہ نے 5 سالہ بچّے کے جسم میں حساس مقام کے اندر چھڑی داخل کر کے اسے موت کی نیند سُلا دیا۔ اس حرکت کے نتیجے میں بچے کے جسم سے تیزی سے خون بہنے لگا اور وہ بے ہوش ہو گیا۔ یہ دیکھ کر خادمہ نے بچے کو جائے نماز میں لپیٹ کر ایک لکڑی کے صندوق میں چھپا دیا۔ یہاں تک کہ جان کی بازی ہار گیا۔

- جون 2015ء میں دمّام شہر میں بھیانک جرم کی واردات ہوئی۔ ایتھوپیا سے تعلق رکھنے والی ایک خادمہ نے اپنے کفیل اور مالک کی نوجوان بیوی کو چُھری کے وار کر کے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ مذکورہ خاتون کو زخمی حالت میں ہسپتال پہنچایا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لا کر دم توڑ گئی۔ بعد ازاں مفرور قاتلہ کو سعودی شہری کے گھر کے قریب ایک گودام سے برآمد کر لیا گیا۔ گرفتاری پر یہ بات سامنے آئی کہ افریقی شہریت کی حامل یہ نوجوان ملازمہ کچھ عرصہ پہلے ہی سعودی عرب آئی تھی۔

- ستمبر 2015ء میں ایک سعودی خاندان نے اپنے گھر میں کام کرنے والی ملازمہ کو پکڑ لیا جو ان کے 7 ماہ کے بچّے کو لے کر سڑک پر دوڑ رہی تھی۔ یہ ملازمہ اپنے عقیدے کے مطابق "قربانی کی عید" کے موقع پر اس بچّے کو قتل کرنے کا ارادہ رکھتی تھی۔

- جنوری 2017ء میں جازان صوبے میں ایتھوپیا سے تعلق رکھنے والی ایک گھریلو ملازمہ نے وحشیانہ طریقے سے حملہ کر کے ایک سعودی خاتون اور اس کی دو بچیوں کو قتل کرنے کی کوشش کی۔ اس دوران پڑوسیوں کی مداخلت پر وہ فرار ہو گئی جب کہ خاتون اور بچیوں کو زخمی حالت میں ہسپتال پہنچا دیا گیا۔

- سال 2018ء میں الخرج شہر میں ایتھوپیا سے تعلق رکھنے والی خادمہ نے ایک 13 ماہ کی سعودی بچّی کو قتل کرنے کی کوشش کی۔ ملازمہ نے بچّی کو کپڑوں کی باسکٹ میں ڈال کر اسے کمبلوں سے ڈھانپ دیا۔ اس کے نتیجے میں بچّی بے ہوش ہو گئی۔

- اس سلسلے میں جرم کی تازہ ترین کارروائی گزشتہ ہفتے دارالحکومت ریاض میں سامنے آئی۔ ایتھوپیا سے تعلق رکھنے والی ایک گھریلو خادمہ نے چُھرے کے وار کر کے سعودی لڑکی "نوال" کو فوری طور پر ہلاک کر دیا جب کہ نوال کے بھائی کو 14 وار کر کے زخمی کر ڈالا۔

مقبول خبریں اہم خبریں