.

خامنہ ای کا اقتصادی جنگ کے لیے آپریشن رُوم تشکیل دینے کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے رہبرِ اعلی علی خامنہ ای نے اقتصادی جنگ کے آپریشن روم کی تشکیل کا حکم جاری کیا ہے جو ملک کی ابتر معاشی صورت حال کا مقابلہ کرنے کے لیے مناسب فیصلے کرے۔ جوہری معاہدے سے امریکا کی علاحدگی کے بعد ایران پابندیوں کی صورت میں بڑی مشکل کا سامنا ہے اور مستقبل میں یورپی ممالک نے امریکا کے کیمپ میں کھڑے ہونے کا فیصلہ کر لیا تو صورت حال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔

آپریشن روم نے صورت حال کا سامنا کرنے کے لیے تدابیر کا ایک پیکج وضع کیا ہے۔ ان میں اہم ترین قدم درآمد کی جانے والی 1339 مصنوعات کو اپنی اراضی میں داخل ہونے سے روکنا ہے۔

ایسا نظر آتا ہے کہ یہ اقدام جمعے کے روز ویانا میں ہونے والے اجلاس میں جوہری معاہدے کے حوالے سے ایک نئے فارمولے تک پہنچنے میں ناکامی کے جواب میں سامنے آیا ہے۔ یورپی یونین کی جانب سے ایران کو پیش کی جانے والی شرائط تہران کے مفاد میں نہیں۔ میڈیا رپورٹوں نے ایک فرانسیسی سفارت کار کے حوالے سے بتایا ہے کہ جوہری معاہدے سے متعلق اُن کے ملک کا موقف پہلے فرانس کے تجارتی مفاد کو سامنے رکھے گا۔

ادھر فرانسیسی کمپنیوں کا یکے بعد دیگرے تہران سے انخلا دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ان کمپنیوں میں اپنے شعبوں کے بڑے ادارے مثلا تیل کے میدان میں ٹوٹل کمپنی اور سمندری نقل و حمل کے سیکٹر میں تیسری بڑی کمپنی CMA CGM شامل ہے۔