.

لیبیا : جنرل حفتر کا فائز السراج کی حکومت پر شدت پسندوں کی ہمنوائی کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی مشن کے سربراہ غسان سلامہ نے لیبیا کی فوج کے سربراہ خلیفہ حفتر سے ملاقات کی۔ ملاقات میں تیل کے علاقے الہلال کی تازہ ترین پیش رفت اور حالیہ بحران سے نکلنے کے طریقہ کار پر بات چیت ہوئی۔

حفتر کے قریبی ذرائع نے بتایا ہے کہ لیبیا کی فوج کے سربراہ نے ایک بین الاقوامی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کیا جو تیل سے مالا مال علاقے الہلال پر گزشتہ ماہ تیل کی تنصیبات کے تحفظ کے ذمّے دار ادارے کے سابق سربراہ ابراہیم الحضران کی ملیشیا کے حملے کی تحقیقات کرے۔

خلیفہ حفتر نے فائز السراج کی حکومت پر دہشت گرد اور شدت پسند جماعتوں کی ہمنوائی کا الزام بھی عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ لیبیا کی تیل کی آمدنی میں بڑے پیمانے پر ہیر پھیر کی جا رہی ہے۔

اس سے قبل گزشتہ ہفتے لیبیا کی فوج کی جنرل کمان نے الہلال کے علاقے میں ایک ہفتے سے بندش کا شکار تیل کے اسٹیشنوں سے تیل کی برآمد کے دوبارہ آغاز کے لیے اپنی شرائط کا اعلان کیا تھا۔

الہلال آئل زون میں گزشتہ ماہ شدید مسلح جھڑپیں دیکھی گئی تھیں۔ یہ جھڑپیں لیبیا کی فوج اور تنصیبات کے پہرے کے ذمّے دار سابق محافظین کے سربراہ ابراہیم الحضران کے زیر انتظام جماعتوں کے درمیان ہوئیں۔ ان جماعتوں نے کنٹرول حاصل کرنے کے لیے بندرگاہوں پر حملے کیے جس نے حفتر کو مجبور کر دیا کہ وہ بندرگاہوں کو لیبا کے مشرق میں آئل کارپوریشن کے حوالے کر دیں۔ بندرگاہوں کا کنٹرول طرابلس میں وفاقی حکومت کے تیل کے ادارے کے زیر انتظام نہ دینے کے فیصلے نے لیبیا کے مشرق اور مغرب میں سرگرم حکام کے درمیان تصادم کی صورت حال پیدا ہو گئی۔ اس طرح تیل کی پیداوار اور برآمد کا سلسلہ بھی رک گیا۔