.

محفوظ گزر گاہ کے ذریعے درعا سے ایک ہزار افراد کے انخلاء کا ارادہ رکھتے ہیں : روس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس کی خبر رساں ایجنسی انٹرفیکس نے پیر کے روز شام میں روسی مرکز کے حوالے سے بتایا ہے کہ روسی فوج درعا شہر کے نزدیک گزر گاہ کے راستے جنوب مغربی شام میں سیف زون سے 1000 افراد کے انخلا کا ارادہ رکھتی ہے۔

ایجنسی کے مطابق کوچ کرنے والے افراد شام کے شمال میں اِدلب صوبے کا رُخ کریں گے۔

ایجنسی نے روسی مرکز کے حوالے سے بتایا ہے کہ جنوب مغربی شام میں فائر بندی کے معاہدے میں شامل ہونے والے قصبوں اور دیہات کی تعداد 90 تک پہنچ گئی ہے۔

اس سے قبل مقامی ذرائع نے بتایا تھا کہ جنوبی شام کے صوبے درعا کے لوگوں کو جبری ہجرت کا سامنا کرنا ہو گا۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ تصفیے کو مسترد کرنے والوں نے اپنے ناموں کا اندراج شروع کر دیا جس کا مقصد ان افراد کو جبری طور پر شمالی شام کی جانب بھیجنے کی کارروائی کا آغاز کرنا تھا۔

دوسری جانب شامی حکومت کے میڈیا نے اعلان کیا ہے کہ جبری ہجرت کی کارروائی شروع کرنے کے واسطے 30 کے قریب بسیں الصنمین شہر میں جمع ہو چکی ہیں۔

ذرائع کے مطابق شمال کی جانب کوچ کرنے سے انکار کرنے والوں کے پاس صوبے کے مغرب اور القنیطرہ کا رخ کرنے کا بھی آپشن ہو گا یا پھر وہ شامی حکومت کے ساتھ تصفیہ کر کے لازمی بھرتی کی تیاری کر سکتے ہیں۔

ادھر درعا کے مغربی دیہی علاقے میں متعدد اپوزیشن گروپوں نے شامی حکومت کے ساتھ معاہدے سے علاحدگی اختیار کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب وہ ایک نئے عسکری وجود کے تحت اکٹھا ہوں گے جس کا نام "جیش الجنوب" ہے۔ اس نئی تشکیل کے اعلان کا مقصد اپوزیشن گروپوں کی صفوں کو یکجا کرنا اور ان کے عسکری اور سیاسی فیصلوں کو یکساں بنانا ہے۔

سیاسی حوالے سے اپوزیشن کے اتحاد "سیرین نیشنل کولیشن" نے خطّے میں شامی حکومت اور اس کے حلیفوں کی کارستانیوں کی روشنی میں درعا کے لوگوں کو درپیش جبری ہجرت اور انسانی مشکلات کا ذمّے دار عالمی برادری کو ٹھہرایا ہے۔