.

اسد نواز 'کروڑ پتی' صحافیہ کے شامی اپوزیشن سے مذاکرات

'کنانہ حویجہ اپوزیشن کو بلیک میل کرنے میں ملوث ہیں'

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں انسانی حقوق کی تنظیموں نے الزام عاید کیا ہے کہ بشارالاسد کی حمایت میں مشہور ایک صحافیہ کنانہ حویجہ بھی جنوبی شام میں اپوزیشن کے حامی افراد کو جبرا ھجرت پر مجبور کرنے کے لیے ان سے مذاکرت کرتی پائی گئی ہے۔ حویجہ پر الزام ہے کہ وہ اپوزیشن کو بلیک میل کر کے ان سے پیسے بھی بٹورتی رہی ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق کنانہ حویجہ شام کے سرکاری ٹیلی ویژن سے منسلک ہیں اور ٹی وی چینل میں اینکر کے طور کام کرتی ہیں۔ ان کے والد شام کی فوج میں ایک سینیر افسر رہ چکے ہیں۔ موصوفہ کو کئی ایک بار بشار الاسد کےمخالفین کے ساتھ مذاکرات کرتے اور انہیں دوسرے علاقوں میں جبری ھجرت پر مجبور کرتے دیکھا گیا ہے۔

شام میں انسانی حقوق کی صورت حال پر نظر رکھنے والے ادارے 'آبزر ویٹری' کے مطابق کنانہ حویجہ نے درعا شہر سے شمالی شام کی طرف ھجرت نہ کرنے والے شامی اپوزیشن کے حامیوں کو دھمکی دی تھی کہ اگر انہوں نے وقت مقررہ سے قبل علاقہ خالی نہ کیا تو انہیں بے دخلی کے اخراجات بھی اٹھانا پڑیں گے۔

رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہےکہ حویجہ نے ذاتی مالی فواید کے لیے اپوزیشن اور روسی فوجیوں کے درمیان جنگ بندی کے نفاذ میں تاخیر کرائی تھی۔

انسانی حقوق کے آبزر ور رامی عبدالرحمان نے استفسار کیا ہے کہ کنانہ حویجہ ایک سرکاری صحافی ضرور ہیں مگر وہ کس حیثیت سے اپوزیشن کے لوگوں سے مذکارات کر کے انہیں علاقہ چھوڑنے پر مجبور کررہی ہیں اور تاخیر کرنے والوں سے بھاری رقوم لینے کی بھی مرتکب ہوئی ہیں۔

کیا جس طرح یرموک شہر سے اپوزیشن کو نکالنے میں تاخیر کی گئی اور بعد ازاں شہریوں سے نقل مکانی کے عوض بھاری قوم وصول کی گئی تھیں؟ حویجہ وہی کچھ دوبارہ کررہی ہیں؟

خیال رہے کہ کنانہ حویجہ کو دمشق، اس کے مضافات اور شمالی حمص میں بھی روسی فوجیوں کے ہمراہ اپوزیشن کے نمائندوں سے مذاکرات کرتے دیکھا جا چکا ہے۔ وہ روسی فوجیوں کے ساتھ مل کر باغیوں کے ساتھ جنگ بندی معاہدے کی شرائط طے کرنے میں پیش پیش رہی ہیں۔

انسانی حقوق آبزر ویٹری کے مطابق حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایک فوٹیج وائرل ہوئی ہے جس میں کنانہ حویجہ کو اپوزیشن کے نمائندوں سے انہیں علاقہ چھوڑنے کے لیے مذاکرات کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔ اس فوٹیج سے یہ معلوم نہیں ہو رہا کہ وہ کس جگہ اور کب اپوزیشن کے نمائندوں سے بھائو تائو کررہی ہیں۔

خیال رہے کہ کنانہ حویجہ کو شام میں حکومت کی طرف سے اپوزیشن کی جبری بے دخلی کی منصوبہ ساز قرار دیا جاتا رہا ہے۔ وہ اپوزیشن کی مجبوریوں سے ناجائز فائدہ اٹھا کر ان سے بھاری رقوم بھی حاصل کرنے کی کوششیں کرتی پائی گئی ہے۔