.

اسرائیلی بحریہ نے غزہ کی ناکا بندی توڑنے کی کوشش کرنے والی کشتی پکڑ لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی بحریہ نے غزہ کی بندر گاہ سے یورپ کی جانے والی ایک کشتی پکڑ لی ہے۔اس کشتی پر زخمی فلسطینی اور طلبہ سوار تھے اور وہ اسرائیل کی ناکا بندی توڑنے کی کوشش کررہے تھے۔

اس کشتی کو غزہ سے روانہ کرتے وقت سیکڑوں فلسطینی ساحل سمندر پر موجود تھے ۔اس پر کل نو مسافر سوار تھے۔ان میں سے چار احتجاجی مظاہروں کے دوران میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے زخمی ہوئے تھے اور انھیں علاج کے لیے یورپ لے جایا جارہا تھا لیکن غزہ سے روانہ ہونے کے تھوڑی دیر بعد ہی اسرائیلی بحریہ نے اس کشتی کو پکڑ لیا۔

اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کشتی اور اس پر سوار فلسطینیوں کی تلاشی لی گئی ہے۔اس کے بعد کشتی کو اشدود کے بحری اڈے پر لے جایا جائے گا۔فوج نے کشتی پر سوار زخمی فلسطینیوں کے علاج کے لیے طبی اہلکاروں کو ذمے داری سونپ دی ہے۔

فلسطینیوں نے مئی میں بھی ایک کشتی کے ذریعے اسرائیل کی بحری ناکا بندی توڑنے کی کوشش کی تھی لیکن اس کو بھی غزہ سے چند کلومیٹر دور پکڑ لیا گیا تھا۔اسرائیلی فوج غزہ کی پٹی سے فلسطینیوں کی کشتیوں کو چھے ناٹیکل میل سے باہر نہیں جانے دیتی ہے۔

اسرائیل نے 2008ء سے غزہ کی پٹی کی بری ، بحری اور فضائی ناکا بندی کررکھی ہے ۔اقوام متحدہ کے عہدے دار اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں متعدد مرتبہ اسرائیل سے فلسطینی علاقے کا بگڑتی ہوئی انسانی صورت حال کے پیش نظر محاصرہ ختم کرنے کا مطالبہ کرچکی ہیں ۔

اسرائیل نے سوموار کو غزہ کی پٹی کے ساتھ اشیاء کی آمد ورفت کے لیے استعمال ہونے والی واحد زمینی گذرگاہ کو بھی بند کردیا تھا۔اس نے یہ اقدام غزہ سے آتش گیر موادی والی پتنگوں اور غباروں کو اسرائیلی علاقے میں زرعی فارموں کی جانب چھوڑنے کے ردعمل میں کیا تھا۔

اسرائیلی فائر سروس کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ غزہ سے آنے والی جلتی پتنگوں کے 750 واقعات میں 2600 ہیکٹرز اراضی پر کھیت جل چکے ہیں اور اس سے لاکھوں شیکلز کا نقصان ہوا ہے۔

واضح رہے کہ اسرائیل اور غزہ کی سرحد پر فلسطینیوں نے 30 مارچ کو فلسطینی مہاجرین کی واپسی کے حق میں احتجاجی مظاہرے شروع کیے تھے۔ اسرائیلی فوج کی مظاہرین پر اندھا دھند اور وحشیانہ فائرنگ کے نتیجے میں اب تک 139 فلسطینی شہید اور چار ہزار سے زیادہ زخمی ہوچکے ہیں۔