.

ایران نے اپنی معیشت پر امریکی پابندیوں کے اثرات کا اقرار کر لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی صدر کے نائب اسحاق جہانگیری کا کہنا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکا کی جانب سے اُن کے ملک کی تیل کی آمدنی روک دینے سے متعلق ارادے کا اثر پڑے گا۔ تاہم جہانگیری کے مطابق اس خطرے پر قابو پانے کے لیے مناسب اقدام کثیر مقدار میں تیل کی فروخت کو تیزی کے ساتھ فروخت کرنا ہے۔

جہانگیری نے بتایا کہ ایرانی وزارت خارجہ اور مرکزی بینک پابندیوں کے باوجود بینکنگ کے معاملات کو آسان بنانے کے لیے اقدامات کریں گے۔

جہانگیری کے اس اقرار کے ساتھ ایک مرتبہ پھر ایران کے سینئر عہدے داروں کی زبان پر آبنائے ہرمز کو آئل ٹینکروں کے لیے بند کر دینے کا عندیہ لوٹ آیا ہے۔

ایرانی پارلیمنٹ کے نائب اسپیکر علی مطہری کا کہنا ہے کہ اگر واشنگٹن نے ایران کا تیل درآمد کرنے والوں پر پابندیاں عائد کیں تو تہران آبنائے ہرمز کو بند کر دے گا اور خلیجی ممالک کو تیل برآمد نہیں کرنے دے گا۔

مطہری کا یہ موقف اُن ایرانی بیانات کے سلسلے کے بعد سامنے آیا ہے جس کا آغاز ایرانی صدر حسن روحانی کی اس دھمکی کے ساتھ ہوا تھا کہ خطے کے ممالک کو آبنائے ہرمز کے راستے تیل برآمد کرنے سے روک دیا جائے گا۔

امریکی وزارت خارجہ کے ایک سینئر عہدے دار رواں ماہ کے دوران یہ واضح کر چکے ہیں کہ ایران پر امریکی دباؤ کا مقصد تہران کی تیل سے حاصل ہونے والی آمدنی کو کم کر کے صفر تک پہنچانا ہے تا کہ ایرانی قیادت کو خطّے میں اپنی روش اور برتاؤ تبدیل کرنے پر مجبور کیا جا سکے۔