.

جنوبی شام میں داعش تنظیم پر فضائی ضربیں اور شدید گولہ باری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں انسانی حقوق کے نگراں ادارے المرصد السوری کے مطابق جنوبی شام میں روسی فضائیہ نے بدھ کے روز داعش تنظیم کے زیر کنٹرول علاقوں کو حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔ اس دوران جھڑپیں بھی ہوئیں۔

جمعے کے روز سے درعا صوبے کے جنوب میں ایک بڑے حصّے پر خاموشی چھائی ہوئی ہے۔ یہ صورت حال بشار کی فوج اور اپوزیشن گروپوں کے درمیان فائر بندی کے سمجھوتے کے بعد سامنے آئی ہے۔ اس سے قبل تقریبا تین ہفتوں سے بشار کی فوج علاقے پر حملے کر رہی تھی۔

روسی لڑاکا طیاروں نے بدھ کی صبح داعش تنظیم کے زیر قبضہ قصبے سحم الجولان پر بم باری کی۔ المرصد السوری کے سربراہ رامی عبدالرحمن کے مطابق روسی فضائی یلغار کے ساتھ مذکورہ قصبے پر درجنوں راکٹ اور توپ کے گولے بھی برسائے گئے۔

واضح رہے کہ اس قصبے میں داعش تنظیم کی بیعت کرنے والا گروپ سرگرم ہے جس کا نام "جيش خالد بن الوليد" ہے۔

داعش تنظیم سے تعلق رکھنے والے گروپ نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے جنوبی دیہی علاقے میں واقع قصبے حیط پر حملہ کیا۔ یاد رہے کہ حیط پر کنٹرول رکھنے والے شامی اپوزیشن گروپوں نے اس قصبے کو فائر بندی کے سمجھوتے میں شامل کرنے پر آمادگی ظاہر کی تھی۔

اس سے قبل داعش تنظیم نے منگل کے روز زیزون قصبے میں خود کش دھماکے کی ذمّے داری قبول کی تھی۔ کارروائی میں شامی سرکاری فوج اور اپوزیشن فورسز کے 14 افراد ہلاک ہوئے۔

ادھر اسرائیل کے زیر قبضہ گولان کے پہاڑی علاقے کے نزدیک جنگ بندی کی پٹی سے 10 کلو میٹر کی دوری پر شامی فوج اور دہشت گردوں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ یہ مقام اردن سے صرف 4 کلو میٹر دور ہے۔ حالیہ دنوں میں داعش کے زیر قبضہ علاقے سے ہزاروں افراد کسی بھی ممکنہ حملے کے اندیشے کے سبب گولان کی جانب فرار ہو گئے۔

شامی بحران سے متعلق اردن کے دارالحکومت عَمّان میں اقوام متحدہ کے دفتر کے ترجمان ڈیوڈ سوانسن یہ بتا چکے ہیں کہ مقبوضہ گولان کی سرحدی پٹی پر تقریبا 2 لاکھ شامی موجود ہیں۔

المرصد کے مطابق روسی سپورٹ کے ساتھ شامی فوج کے حملے کے آغاز کے بعد سے ہونے والی بم باری میں 150 سے زیادہ شہری جاں بحق ہو چکے ہیں جب کہ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اس دوران 3.2 لاکھ شہری بے گھر ہو چکے ہیں۔

فائر بندی کے سمجھوتے کے بعد ان میں سے ہزاروں افراد کے اپنے قصبوں کی جانب واپس لوٹنے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ معاہدے کے تحت اپوزیشن جنگجو اپنا بھاری اسلحہ اور صوبے کا کنٹرول شامی حکومت کے حوالے کریں گے۔ اس میں اردن کے ساتھ شامی سرحد بھی شامل ہے۔

درعا صوبے کی مکمل واپسی کے بعد بشار حکومت کے سامنے باقی رہ جانے والا واحد چیلنج داعش تنظیم کے زیر قبضہ کچھ علاقہ ہو گا۔

اس وقت درعا صوبے کے تقریبا 80% رقبے پر شامی فوج کا کنٹرول ہے۔ تقریبا 15% رقبے پر اب بھی شامی اپوزیشن گروپوں کا کنٹرول ہے جب کہ باقیہ اراضی داعش کے ذیلی گروپ "جيش خالد بن الوليد" کے قبضے میں ہے۔