.

حوثیوں کے لیے حزب اللہ کی سپورٹ پر یمن کا لبنان سے شدید احتجاج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے وزیر خارجہ خالد الیمانی نے اپنے لبنانی ہم منصب جبران باسیل کو سخت لہجے کا حامل ایک خط ارسال کیا ہے۔ خط میں لبنانی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ کنارہ کشی کی پالیسی اپناتے ہوئے ایران نواز ملیشیاؤں کو لگام دے اور ان کے دشمنانہ رویّے کو قابو کرے۔ یمنی وزیر خارجہ کا یہ موقف حوثی باغیوں کی سپورٹ کے سلسلے میں لبنانی تنظیم حزب اللہ کے بڑھتے ہوئے کردار کے پس منظر میں آیا ہے۔

الیمانی نے زور دے کر کہا کہ "ہمیں یہ حق حاصل ہے کہ یمن اس معاملے کو عرب لیگ، اسلامی تنظیم کانفرنس اور عالمی سلامتی کونسل میں پیش کرے"۔

مؤرخہ 8 جولائی کے کے اس خط میں سفارتی الفاظ کے استعمال اور لبنان کے ساتھ قریبی تعلقات کے باوجود یمنی وزیر خارجہ کا غصّہ نمایاں رہا۔

الیمانی کے مطابق حزب اللہ کے سکریٹری جنرل حسن نصر اللہ نے 29 جون کو اپنے ٹیلی وژن خطاب میں واضح طور پر باغی حوثی ملیشیا کے واسطے اپنی سپورٹ کا اظہار کیا۔ نصر اللہ نے نہ صرف حوثیوں کو یمنی فوج کے خلاف لڑنے پر اکسایا بلکہ اس خواہش کا بھی اظہار کیا کہ وہ اور اس کی تنظیم حزب اللہ یمن میں حوثی ملیشیا کے شانہ بشانہ بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ آئینی حکومت کے خلاف لڑنا چاہتے ہیں۔

اسی طرح خالد الیمانی نے یمنی حکومت کی جانب سے حزب اللہ کے بیان کی مذمت کی اور باغی حوثی ملیشیا کے لیے تربیت، منصوبہ بندی، اشتعال انگیزی اور سپورٹ کے عمل میں حزب اللہ کی شرکت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔