.

اسرائیلی فوج کے افسران کا قطر کے خرچے پر بیرون ملک سفر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی ٹی وی چینل 10 کے نمائندے اور سیاسی تجزیہ کار باراک رافید نے بدھ کے روز انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی فوج کے سینئر افسران اور دیگر اسرائیلی عہدے داران نے دائیں بازو کی ایک یہودی تنظیم Our Soldiers Speak کی اسرائیل سے باہر سرگرمیوں میں شرکت کی جس کا مقصد تل ابیب کے لیے پروپیگنڈہ اور لابنگ کرنا تھا۔ معلوم رہے کہ مذکورہ تنظیم قطر کی جانب سے فنڈنگ حاصل کر چکی ہے۔

یہودی تنظیم Our Soldiers Speak بیرون ملک اسرائیلی پروپیگنڈے کے واسطے کام کرتی ہے۔ اس سلسلے میں اسرائیلی فوج، پولیس اور حکومت کے عہدے داران کو دنیا بھر کی جامعات اور دیگر اداروں میں گفتگو کے لیے پلیٹ فارم فراہم کیا جاتا ہے تا کہ وہ اسرائیلی مفادات کا دفاع کر سکیں۔

یاد رہے کہ بنجمین اینتھونی نامی ایک برطانی یہودی (جو اسرائیلی فوج میں بھی خدمات انجام دے چکا ہے) کے زیر انتظام چلنے والی اس تنظیم کو قطر کی جانب سے ایک لاکھ ڈالر کی فنڈنگ مل کی ہے۔

اسرائیلی تجزیہ کار باراک رافید کے مطابق مذکورہ تنظیم کو امریکی یہودی کاروباری شخصیت جوزف اللحام کی جانب سے یہ رقم موصول ہوئی جو امریکا میں قطر کے مفاد میں کام کرتا ہے۔

رافید کے انکشاف کے مطابق تنظیم کے قطر سے عطیات حاصل کرنے کے بعد سے اسرائیلی فوج کے 3 سینئر افسران اور اسرائیلی وزارت انصاف کی ایک اعلی خاتون عہدے دار امریکا کا سفر کر چکے ہیں۔

اسرائیلی نامہ نگار رافید کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج Our Soldiers Speak تنظیم کے ساتھ مسلسل تعاون کر رہی ہے تاہم اس تنظیم کو فنڈنگ فراہم کرنے والے فریقوں کے نام پیش نہیں کیے گئے۔

دوسری جانب Our Soldiers Speak تنظیم کے بانی نے اس انکشاف کا جواب دیتے ہوئے امریکی اخبار "Jewish week" کو بتایا کہ انہیں یہ معلوم نہ تھا کہ تنظیم کے لیے دی جانے والی عطیے کی رقم قطری حکومت کی جانب سے ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ یہ رقم واپس نہیں کریں گے اور اسے اسرائیل کے مفاد میں پروپیگنڈے کے واسطے استعمال میں لائیں گے۔

اسرائیلی نامہ نگار نے اپنی رپورٹ میں یہ سوال اٹھایا ہے کہ "اگر اسرائیلی فوجی افسران اور دیگر عہدے داران کا اپنی ملازمت کے دائرہ کار میں لیکچر دینے کے واسطے بیرون ملک سفر کرنا اتنا اہمیت کا حامل ہے تو اسرائیلی غیر ملکی تنظیموں کی طرف سے فنڈنگ پر انحصار کے بجائے خود ان سرگرمیوں کے لیے رقم فراہم کیوں نہیں کرتی"۔

قطر کی جانب سے دائیں بازو کی ایک امریکی یہودی تنظیم کی فنڈنگ کے پیچھے موجود وجوہات پر روشنی ڈالتے ہوئے رافید کا کہنا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ قطر کے اس اقدام کا مقصد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے زیادہ قریب ہونا ہے۔ اس لیے کہ یہ بات معروف ہے کہ یہ تنظیمیں کسی بھی دوسرے فریق سے زیادہ امریکی انتظامیہ پر اثر انداز ہوتی ہیں۔