.

عراق : بصرہ میں عوامی احتجاج میں شدّت کے بعد حکومت کی مداخلت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراقی وزیراعظم حیدر العبادی برسلز سے واپسی پر بصرہ پہنچ گئے ہیں۔ ان کی آمد کا مقصد عراق کے اس جنوبی صوبے میں غربت، بے روزگاری اور بدعنوانی کے خلاف پانچ روز سے جاری عوامی احتجاج کو قابو کرنا ہے۔

عراقی حکومت نے بصرہ کے لوگوں کے لیے روزگار کے دس ہزار مواقع کا اعلان کیا ہے۔ اس کے علاوہ عراقی کابینہ نے وزیر تیل کے زیرِ قیادت ایک حکومتی وفد بھی تشکیل دیا ہے۔ اس کا مقصد بصرہ کو درپیش مسائل کا فوری حل تلاش کرنا ہے۔

روزگار کے مواقع فراہم کرنے سے متعلق مطالبے میں اس وقت سے شدّت آ گئی جب اتوار کے روز مظاہرین میں شامل ایک شخص ہلاک اور تین زخمی ہو گئے۔ احتجاج کرنے والوں نے مطالبات پورے ہونے تک دھرنا دینے کا اعلان کر دیا۔

دوسری جانب عراقی صدر فواد معصوم نے مظاہرین پر زور دیا ہے کہ وہ پُرسکون رہیں اور ساتھ ہی مقامی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مظاہرین کے قانونی مطالبات کا مثبت جواب دینے کے واسطے فوری اور سنجیدہ اقدامات کرے۔

بصرہ پولیس کی کمان نے صوبے میں سرکاری دفاتر کے تحفظ کے لیے اپنی فورسز تعینات کر دی ہیں۔ پولیس کے مطابق امن و امان کی صورت حال زیر کنٹرول ہے۔ اس سے قبل دھرنا دینے والے مظاہرین نے سرکاری دفاتر پر دھاوے کی دھمکی بھی دی تھی۔

جمعرات کے روز بصرہ میں سیکڑوں شہری مختلف عوامی مظاہروں میں سڑکوں پر نکل آئے۔ مظاہرین نے اپنی معاشی حالت بہتر بنانے، بجلی اور بے روز گاری کا بحران حل کرنے اور بدعنوانی کے خلاف جنگ کا مطالبہ کر رہے تھے۔

پولیس کے مطابق مظاہرین کو منتشر کرنے کے واسطے ہوائی فائرنگ کی گئی۔ طبّی ذرائع کے مطابق اس دوران 2 مظاہرین زخمی ہو گئے جب کہ مشتعل افراد نے پولیس کے زیر استعمال ایک بڑی گاڑی میں آگ لگا دی۔

دوسری جانب عراق میں انسانی حقوق کے نگراں گروپ المرصد العراقی کا کہنا ہے کہ مرکزی حکومت خدمات کی بدترین فراہمی اور بے روزگاری کے خلاف پر امن مظاہروں کے دوران احتجاج کرنے والے متعدد مظاہرین کی ہلاکت کے معاملے میں انتہائی سہل پسندی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ اس حوالے سے تازہ ترین واقعہ عراق کے جنوبی شہر بصرہ میں پیش آیا جب ایک نوجوان چند روز قبل سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے زخمی ہو گیا۔