.

مصر، بحرین اور امارات کا ’بی آؤٹ کیو’ کے خلاف سعودی اقدامات کا خیر مقدم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مُتحدہ عرب امارات، مصر اور بحرین نے سعودی عرب کی طرف سے ایک نجی نشریاتی ادارے’بی آؤٹ کیو‘ کے خلاف اقدامات کا خیر مقدم کیا ہے۔ اس سے قبل فٹ بال کی عالمی ایسوسی ایشن [ فیفا] کی جانب سے ’بی آؤٹ کیو‘ کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا اعلان کیا گیا جس پر سعودی عرب کی طرف سے خیر مقدم کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ یہ ٹی وی چینل سعودی عرب میں روس میں ہونے والے فٹ بال عالمی کپ کے میچوں کو غیر قانونی طور پر نشر کررہا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق تینوں عرب ممالک نے ’بی آئوٹ کیو‘ کے خلاف سعودی عرب کے اقدمات کو درست اور قانونی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ بھی اپنے ہاں اس تی وی چینل کے خلاف ایسے قانونی اقدامات کریں گے۔

تینوں ممالک نے کہا ہے کہ ’بی کیو اؤٹ کیو‘ٹی وی چینل عرب ممالک کے نظریاتی مالکانہ حقوق کی خلاف ورزی کررہا ہے۔

مُتحدہ عرب امارات کی نیشنل میڈیا کونسل نے سعودی عرب اور ’فیفا‘ کی طرف سے نجی ٹی وی چینل کے خلاف اقدامات کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ نجی چینل سعودی عرب کے شاہی حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کررہا ہے۔

ادھر مصر کی سپریم کونسل برائے اطلاعات نے بھی’بی آئوٹ کیو‘ کے معاملے میں سعودی عرب کو تنقید کا نشانہ بنانے کو مسترد کردیا ہے۔

سعودی وزارت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ فیفا کی جانب سے اس اقدام سے مملکت کی وزارت تجارت اور سرمایہ کاری کی بی آؤٹ کیو ٹی وی اور بی اِن کی غیر قانونی نشریات کو رکوانے کے لیے ان تھک کوششوں کو تقویت ملے گی۔ سعودی عرب اپنی حدود میں انٹلیکچوئل پراپرٹی رائٹس کے تحفظ کے لیے اقدامات کررہا ہے۔

وزارت کا کہنا ہے کہ بی آؤٹ کیو کی نشریات سعودی عرب کے علاوہ مشرقِ اوسط اور شمالی افریقا ] مینا] کے خطے کے ممالک میں بھی غیر قانونی طور پر اور سرقہ بازی کے ذریعے دکھائی جارہی ہیں۔اس کے باوجود بعض غیر ذمے دارانہ میڈیا رپورٹس میں سعودی عرب کو بی آؤٹ کیو کے سرقے سے جوڑنے کی غیر منصفانہ اور غلط کوشش کی گئی ہے۔