.

مصرمیں انسانی اعضاء کے سودا گروں کو قید اور برطرفی کی سزا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصرکی ایک فوجی داری عدالت نے انسانی اعضاء چوری کرنے اور ان کی خریدو فروخت کے دھندے میں ملوث نیٹ ورک کے مجرموں کو تین سے پندرہ سال قید با مشقت اور ملازمت سے برطری کی سزائیں سنائی ہیں۔

’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کے مطابق انسانی اعضا چوری کرنے میں ملوث گینگ کے پانچ ملزمان کو 15 سال قید بامشقت اور پانچ لاکھ مصری پاؤنڈز، 20 ملزمان کو 3 سال قید بامشقت،12 کو 7 سال قید با مشقت اور ان کی جائیداد ضبطی کی سزائیں سنائی گئیں۔ مقدمے میں شامل تین ملزمان کو بری کردیاگیا۔

عدالت نے 10 ڈاکٹروں کوانسانی اعضاء کی چوری میں ملوث ہونے پر ملازمت سے برطرف کردیا ہے۔

مصری وزارت صحت کے ایک ذریعے نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اسپتالوں میں انسانی اعضاء کی چوری کا اسکینڈل سامنے آنے کے بعد حکام نے الجیزہ اور الھرم کے علاقوں میں اسپتالوں میں چھاپے مارے۔ تلاشی کےدوران 8 نرسوں اور 12 ڈاکٹروں سمیت 41 ملزمان کو حراست میں لے لیا تھا۔ انسانی اعضاء کی چوری میں ملوث گینگ گردے اور دیگر انسانی اعضاء چوری کرنے کے بعد انہیں انسانی اعضا کے عالمی گروپوں کو9 سو ڈالر سے لے کر 9 ہزار ڈالر تک کی قیمت میں فروخت کرتے تھے۔