.

عراق میں احتجاجی مظاہروں میں شدت کے بعد کویت میں پیشگی حفاظتی اقدامات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے جنوبی شہر بصرہ میں جاری احتجاجی مظاہروں کے بعد کویتی حکام نے مبینہ طور پر پیشگی حفاظتی اقدامات شروع کردیے ہیں جبکہ اس کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ ملک کی شمالی سرحدوں پر صورت حال پُرامن ہے اور اس کے خیال میں بصرہ میں احتجاجی مظاہرے عراق کا اندرونی معاملہ ہے۔

صوبہ بصرہ کے مختلف شہروں اور قصبوں میں عوامی مظاہروں کے بعد ہفتے کے روز عراق اور کویت کے درمیان صفوان بارڈر کراسنگ بند کردی گئی ہے اور مظاہرین نے جنوبی شہر کربلا میں سرکاری عمارتوں پر دھاوا بول دیا ہے۔

مبصرین نے خبردار کیا ہے کہ کویت کی شمالی سرحدوں پر صورت حال خراب ہوسکتی ہے اور عراق کے جنوبی علاقوں میں برسرپیکار ایران کے حمایت یافتہ شیعہ گروپ سرحدی علاقوں کا رُخ کرسکتے ہیں ۔

مبصرین کے مطابق عراقی سکیورٹی فورسز شیعہ مسلح گروپوں پر کنٹرول کی صلاحیت نہیں رکھتی ہیں اور اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ان کے لیڈروں کو سکیورٹی فورسز پر اثر ورسوخ حاصل ہے اور وہی ان کے فیصلے کررہے ہیں ۔

بصر ہ اور اس کے نواحی علاقوں کے مکین گذشتہ ایک ہفتے سے روزگار ، بجلی ، پانی اور دوسری بنیادی خدمات کی عدم دستیابی کے خلاف احتجاج کررہے ہیں ۔ان کے ان مطالبات کو تسلیم کرنے کے بجائے پڑوسی ملک ایران نے بصرہ کو بجلی مہیا کرنا بند کردی ہے۔اس پر مظاہروں میں مزید شدت آئی ہے اور مظاہرین نے 12 جولائی کو بصرہ سے ایران کی سرحدی گذرگاہ کے درمیان واقع شاہراہ کو بھی بند کردیا تھا۔

عراق کی جنوبی بندرگاہ بصرہ تیل پیدا کرنے والے علاقوں میں سرفہرست ہے لیکن ملک کے باقی علاقوں کی طرح اس شہر اور صوبے کے مکینوں کو بھی بجلی کی کئی کئی گھنٹے عدم دستیابی اور بے روزگاری کی بلند شرح کا سامنا ہے۔وہ تیل کمپنیوں میں ملازمتیں دینے اور بہتر بنیادی خدمات مہیا کرنے ایسے مطالبات کے حق میں احتجاجی مظاہرے کررہے ہیں۔

عراق کے جن علاقوں میں غیر ملکی کمپنیاں تیل نکالنے کا کام کررہی ہیں، وہاں مقامی قبائل اور کمیونٹیوں کے افراد ان کمپنیوں میں ملازمتوں کے حصول کے لیے گاہے گاہے احتجاج کرتے رہتے ہیں۔ واضح رہے کہ بصرہ میں و اقع آئیل فیلڈز پر روسی کمپنی لک آئیل تعمیر وترقی کام کررہی ہے اور اس کے ایک علاقے مغربی قرنہ میں واقع آئیل فیلڈ کا انتظام ایکسن موبائل کے پاس ہے۔