.

عراق میں حکومت مخالف احتجاج ملک بھر میں پھیل گیا، سرکاری تنصیبات پر حملے

مظاہرین اور پولیس سے تصادم، دسیوں افراد زخمی، ایک ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں دو روز قبل بصرہ شہر سے شروع ہونے والا احتجاج ملک کے کئی دوسرے شہروں تک پھیل گیا ہے۔ ’العربیہ‘ اور ’الحدث‘ نیوز چینلوں کی رپورٹس کے مطابق پولیس اور مظاہرین کے درمیان تصادم کے نتیجے میں میسان گورنری میں ایک شخص ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے ہیں۔

نامہ نگاروں کے مطابق مظاہرین کے ایک مشتعل ھجوم نے میسان میں الفتح بلاک کے ہیڈ کوارٹر پر دھاوا بول دیا جس کے بعد پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں شروع ہوئیں جو کئی گھنٹوں تک جاری رہیں۔

اطلاعات کے مطابق عراق کے بابل شہر اور کئی دوسرے مقامات پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان تصادم کی خبریں ملی ہیں۔

جُمعہ کے روز نماز جمعہ کے اجتماعات کے بعد بصرہ، نجف، میسان، ذیقار، بابل اور بغداد سمیت کئی دوسرے شہروں میں حکومت کے خلاف ریلیاں نکالی گئیں۔

نجف ہوائی اڈے پر ایک ھجوم نے حملے کی کوشش کی۔ مظاہرے کی وجہ سے ہوائی اڈے پر جہازوں کی آمد روفت روکنا پڑی۔

نجف سے ’الحدث‘ کے نامہ نگار کے مطابق مظاہرین نے ہوائی اڈے میں داخل ہونے کی کوشش کی مگر پولیس نے انہیں منع نہیں کیا اور مظاہرین پر امن طریقے سے ہوائی اڈے تک پہنچ گئے۔

مظاہرین کے بڑھتے احتجاج اور ہوائی اڈوں کی طرف مارچ کرنے پر عالمی فضائی کمپنیوں نے حکومت سے تحفظ کی درخواست کی ہے۔

اطلاعات کے مطابق نجف ہوائی اڈے پر موجود تمام طیاروں کو بغداد منتقل کر دیا گیا تھا۔ تاہم ہوائی اڈے کو پروازوں کے لیے دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔ انسداد دہشت گردی پولیس کی مداخلت کے بعد مظاہرین نے نجف ہوائی اڈے کو خالی کر دیا تھا۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ذیقار گورنری میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان ہونے والے تصادم میں 25 پولیس اہلکار زخمی ہوگئے جب کہ پولیس نے متعدد مظاہرین کو گرفتار کرلیا ہے۔

میسان گورنری میں ھجوم نے حزب الدعوۃ کے ہیڈ کواٹر کو آگ لگا دی اور مقامی عدالت پر بھی دھاوا بولا۔

الناصریہ شہر میں بھی حکومت کی خراب کار کردگی کے خلاف احتجاج جاری ہے۔ الناصریہ اور بغداد شہروں میں مظاہروں کے دوران فائرنگ کی بھی اطلاعات آئی ہیں۔

خیال رہے کہ عراق میں دو روز قبل ملک میں بدامنی، مہنگائی اور بے روزگاری کے خلاف عوام سڑکوں پر نکل آئے تھے۔ احتجاج ایک ایسے وقت میں شروع ہوا جب وزیراعظم حیدر العبادی بیرون ملک دورے پر تھے اور وہ اپنا دورہ مختصر کرکے برسلز سے واپس بصرہ پہنچ گئے۔