.

محمود عباس کی ماسکو میں صدر پوتین سے ملاقات ،فلسطین کی تازہ صورت حال پر تبادلہ خیال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطینی صدر محمود عباس نے ماسکو میں ہفتے کے روز روسی ہم منصب ولادی میر پوتین سے ملاقات کی ہے اور ان سے تنازعہ فلسطین کی تازہ صورت حال کے بارے میں تبادلہ خیال کیا ہے۔ ان سے چند روز قبل ہی اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے روسی صدر سے ملاقات کی تھی۔

روسی خبررساں ایجنسیوں کی رپورٹ کے مطابق صدر پوتین نے کریملن میں ملاقات میں محمود عباس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ’’مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ مجھے آپ کو آپ کے ہمسایہ ممالک کے مختلف لیڈروں سے روابط کے بارے میں بتانے کا موقع ملا ہے’’۔

انھوں نے کہا:’’ میں جانتا ہوں کہ خطہ اس وقت ایک مشکل صورت حال سے دوچار ہے اور ہم آپ کے ممنون ہیں کہ عالمی کپ فٹ بال ٹورنا منٹ (کےفائنل) کے موقع پر آپ نے ماسکو آنے کا فیصلہ کیا۔مجھے خوشی ہے کہ آپ سے فلسطینیوں کو درپیش مسائل پر تبادلہ خیال کا موقع ملا‘‘۔

محمود عباس نے روسی صدر کو ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکی سفارت خانے کی تل ابیب سے مقبوضہ بیت المقدس میں منتقلی کے فیصلے اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں یہودی آباد کاری کے بارے میں اپنی تشویش سے آگاہ کیا۔

روسی خبررساں ایجنسیوں کے مطابق انھوں نے کہا:’’ ہم امریکیوں کی فلسطین کے سب سے اہم مسائل کے بارے میں فیصلے مسلط کرنے کی کوشش کی مزاحمت کررہے ہیں ‘‘۔

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے گذشتہ بدھ کو ماسکو کا دورہ کیا تھا اور صدر پوتین سے شام کی صورت حال اور اسرائیل کے فلسطینیوں سے تعلقات کے بارے میں بات چیت کی تھی۔

دریں اثناء اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی میں حماس کے ٹھکانوں پر آج دوپہر نئے فضائی حملے کیے ہیں ۔گذشتہ روز غزہ کی سرحد پر اسرائیلی فوج کے ساتھ جھڑپوں میں ایک نوعمر لڑکے سمیت دو فلسطینی شہید اور دوسو بیس سے زیادہ زخمی ہوگئے تھے۔