.

ایران نے انسداد منی لانڈرنگ اور دہشت گردی فنڈنگ معاہدوں میں شمولیت مسترد کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی دستوری تحفظ کونسل نے ہفتے کے روز انسداد دہشت گردی فنڈنگ اور منی لانڈرنگ کی روک تھام کے عالمی معاہدوں میں شمولیت سے متعلق بل مسترد کر کے ایک بار پھر یہ ثابت کیا ہے کہ تہران دہشت گردوں کی پشت پناہی اور غیرقانونی رقوم کی منتقلی سے باز آنے کو تیار نہیں۔

ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے دستوری کونسل کے ترجمان عباس علی کدخائی کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ کونسل میں انسداد منی لانڈرنگ اور انسداد دہشت گردی فنڈنگ کے عالمی معاہدوں میں شمولیت سے متعلق دو بل مسترد کردیے ہیں۔

ان بلوں میں کہا گیا تھا کہ دستوری کونسل دہشت گردی کی فنڈنگ، منی لانڈرنگ، سرحد پار انسانی اسمگلنگ اور اسلحہ کی اسمگلنگ کی روک تھام کے عالمی معاہدوں FATF میں شمولیت پر غور کیا جائے تاہم کونسل نے یہ دونوں بل مسترد کردیے ہیں۔

ایران کے سخت گیر اور شدت پسند حلقوں کا کہنا ہے کہ انسداد دہشت گردی فنڈ اور منی لانڈرنگ کی روک تھام کے عالمی معاہدوں کی آڑ میں تہران کو مزید پھنسانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مغربی استعمار مختلف معاہدوں کی آڑ میں ایران کے جوہری پروگرام کے اضافی پروٹوکول کا مطالبہ کررہا ہے۔ تہران عالمی اوباشوں کے غیرمجاز مطالبات پرعمل درآمد کا پابند نہیں۔

حال ہی میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے بھی ان دونوں عالمی معاہدوں میں ایران کی شمولیت مسترد کردی تھی اور پارلیمنٹ سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ عالمی طاقتوں کے مفاد میں قانون سازی کے بجائے قومی مفاد میں قانون سازی کرے۔