.

سعودی عرب میں منفرد شکل کا حامل "صحرائی کیک"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں مشرقی صوبے کے سب سے بڑے شہر دمّام سے 150 کلومیٹر کی دُوری پر صحرائی علاقے میں واقع ایک پہاڑ اپنی منفرد شکل کے سبب امتیازی حیثیت رکھتا ہے۔ دیکھنے میں "کیک کے ٹکڑے" جیسا نظر آنے والا یہ پہاڑ مقامی طور پر "جودہ کی انگلی" کے نام سے مشہور ہے۔

جودہ کی انگلی کا ذکر بہت سے قدیم اور جدید سفرناموں میں ملتا ہے۔ یہ پہاڑ الاحساء کے نخلستان اور الیمامہ کے علاقے کے درمیان الجودی کے راستے پر ایک امتیازی علامت کی حیثیت رکھتا ہے۔

بہت سے مقامی افراد اس کو "صحرائی کیک" کا نام دیتے ہیں۔ یہ جس جگہ واقع ہے اسے جزیرہ نما عرب کا ایک اہم ترین تجارتی رُوٹ شمار کیا جاتا رہا ہے۔

اس رسوبی پہاڑ میں پانی اور ہوا سے تشکیل پانے والے غار بھی موجود ہیں۔

کنگ سعود یونی ورسٹی میں ارضیات کے پروفیسر ڈاکٹر عبدالعزیز بن لعبون کے نزدیک لاکھوں برس کے ارتقاء کے بعد اس علاقے میں تمام پہاڑ ختم ہو گئے جب کہ یہ "جودی کی انگلی" ارضیاتی تغیرات اور بہت سے عوامل کے سامنے ڈٹی رہی اور ابھی تک باقی ہے۔ بن لعبون کے مطابق سعودی عرب کا یہ علاقہ ارضیات کے طلبہ کے لیے تحقیق اور غور کے واسطے ایک اہم اور مرکزی مقام ہے۔ یہاں پر واقع ہونے والی عظیم تبدیلیاں محققین کے لیے دل چسپی سے بھرپور ہیں۔

وائل الدغفق سعودی عرب میں وسیع پیمانے پر حرکت میں آںے والے سیاحوں میں سے ہیں۔ انہوں نے سفر کے شوقین افراد اور گروپوں کے لیے مذکورہ مقام کے متعدد اسفار کا انتظام کیا۔ الدغفق کے مطابق مشرقی صوبے میں واقع یہ نمایاں مقام فطرت اور ارضیاتی صورتوں کے چاہنے والوں کے لیے اہم منزل شمار کیا جاتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ موسم سرما میں یہ مقام بہت زیادہ گرم ہوتا ہے لہذا فضا میں بہتری آنے کے بعد یہاں کا رخ کرنا چاہیے۔

الدغفق نے اس مشہور "جودی کی انگلی" کی کئی تصاویر بھی پوسٹ کی ہیں تا کہ اس تاریخی مقام کو نمایاں صورت میں سامنے لایا جا سکے۔

اس مقام کی سب سے زیادہ زیر گردش تصاویر سعودی سیاح اور فوٹوگرافر علی الشہری کی کھینچی ہوئی ہیں۔