شامی خاتون اینکر نے بلیک میلنگ کے ذریعے اپوزیشن سے ایک ملین ڈالر بٹورے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شام میں صدر بشارالاسد کی وفادار ایک خاتون صحافی کنانہ خویجہ پر الزام ہے کہ اس نے درعا شہر میں میں اپوزیشن جماعتوں سے مذاکرات اور انہیں محفوظ راستہ دلوانے کی آڑ میں جبری بے دخلی کے دوران ان سے ایک ملین ڈالر کی رقم وصول کی تھی۔

’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کی رپورٹ کے مطابق یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ آیا صدر بشار الاسد کی طرف سے حساس نوعیت کے سیکیورٹی سے متعلق معاملے میں ایک صحافیہ کو کیوں شامل کر رکھا تھا۔

اخباری اطلاعات کے مطابق کنانہ حویجہ نامی صحافیہ ’کروڑ پتی اینکر‘ کے لقب سے مشہور ہیں۔ اُنہوں نے حال ہی میں درعا شہر میں بشارالاسد کی حامی فوج اور اپوزیشن فورسز کے درمیان ایک معاہدہ کرایا۔ اس معاہدے کے تحت باغیوں کو محفوظ راستہ دینے کے بدلے میں حویجہ نے اپوزیشن جماعتوں اور دیگراہم شخصیات سے لاکھوں ڈالرکی رقم وصول کی تھی۔

خیال رہے کہ کنانہ حویجہ بشارالاسد کے ایک قریبی ساتھی میجر جنرل ابراہیم حویجہ کی بیٹی ہیں۔

شام میں انسانی حقوق کی صورت حال پرنظر رکھنے والے ادارے ’آبزر ویٹری‘ کے مطابق کنانہ حویجہ نے درعا گورنری کے ’انخل‘ شہر سے باغیوں کے انخلاء کی ڈیل میں ان سے 8 لاکھ ڈالر کی رقم وصول کی تھی۔ رپورٹ کے مطابق کنانہ کئی روز تک اپوزیشن فورسز سے مسلسل مذاکرات کرتی رہی ہیں۔ ان مذاکرات میں انہوں نے باغیوں کو علاقہ چھوڑنے پر مجبور کرنے کے ساتھ ساتھ ان سے بھاری رقوم بھی ہتھیائی ہیں۔ کنانہ اس سے قبل حمص اور کئی دوسرے شہروں میں بھی باغیوں کے ساتھ ایسے ہی مشکوک لین دین کےسمجھوتے کرچکی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں