.

عراق: السماوہ میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں دو مظاہرین ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے جنوبی شہر السماوہ میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں دو مظاہرین ہلاک ہوگئے ہیں ۔بصرہ میں گذشتہ ہفتے بدعنوانیوں کے خلاف اور بہتر شہری خدمات کی فراہمی کے حق میں شروع ہونے والے احتجاجی مظاہرے ملک کے دوسرے شہروں تک پھیل گئے ہیں اور اب تشدد کا رُخ اختیار کرگئے ہیں ۔

عراقی پولیس کے ایک عہدہ دار نے کہا ہے کہ ’’السماوہ میں اتوار کو سیکڑوں افرادنے ایک عدالت پر دھاوا بولنے کی کوشش کی تھی اور ہماری جانب گولیاں چلائی گئی تھیں ۔ یہ واضح نہیں تھا کہ کون فائرنگ کررہا ہے ۔اس صورت حال میں ہمارے پاس فائر کھولنے کے سوا کوئی چارہ کار نہیں رہ گیا تھا‘‘۔

بصر ہ اور اس کے نواحی علاقوں کے مکین گذشتہ ایک ہفتے سے روزگار ، بجلی ، پانی اور دوسری بنیادی خدمات کی عدم دستیابی کے خلاف احتجاج کررہے ہیں ۔ان کے ان مطالبات کو تسلیم کرنے کے بجائے پڑوسی ملک ایران نے بصرہ کو بجلی مہیا کرنا بند کردی ہے۔اس پر مظاہروں میں مزید شدت آئی ہے اور مظاہرین نے 12 جولائی کو بصرہ سے ایران کی سرحدی گذرگاہ کے درمیان واقع شاہراہ کو بھی بند کردیا تھا۔

عراق میں جاری احتجاجی مظاہروں کے بعد کویتی حکام نے مبینہ طور پر پیشگی حفاظتی اقدامات شروع کردیے ہیں جبکہ اس کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ ملک کی شمالی سرحدوں پر صورت حال پُرامن ہے ۔ مظاہرین نے ہفتے کے روز عراق اور کویت کے درمیان صفوان بارڈر کراسنگ بند کردی تھی۔