.

قنیطرہ کے دیہی علاقے پر شامی حکومت کا شدید حملہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں انسانی حقوق کے نگراں گروپ المرصد السوری کے مطابق شامی حکومت کی فوج اتوار کو صبح تین بجے سے جنوبی صوبے قنیطرہ میں شدید بم باری کر رہی ہے جہاں اس نے مقبوضہ گولان کے نزدیک واقع تزویراتی اہمیت کے حامل قصبوں پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

المرصد کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمن کے مطابق اتوار کو علی الصبح حملے کے بعد سے شامی حکومتی فوج اور اس کے ہمنوا مسلح عناصر کی اپوزیشن گروپوں کے ساتھ شدید جھڑپیں جاری ہیں۔ رامی نے مزید بتایا کہ علاقے میں 800 سے زیادہ توپ کے گولے اور راکٹ داغے گئے۔

دمشق اور اس کے نواحی علاقوں پر کنٹرول کے بعد شامی فوج نے روس کی معاونت سے 19 جون کو درعا صوبے پر حملے کا آغاز کیا اور اپوزیشن گروپوں کے ساتھ مقابلے کے بعد صوبے کے 85% رقبے پر کنٹرول حاصل کر لیا۔

درعا شہر میں ہفتے کے روز شامی اپوزیشن کے گروپوں نے اپنے بھاری ہتھیار شامی حکومت کے حوالے کر دیے جس کے بعد روس کے ساتھ طے پائے جانے والے سمجھوتے کے مطابق پورے شہر پر کنٹرول کی راہ ہموار ہو جائے گی۔

شام کے جنوب میں السویداء کا صوبہ بھی ہے جس پر مکمل طور پر شامی حکومت کی فوج کا کنٹرول ہے۔ المرصد کے مطابق قنیطرہ کا 70% حصّہ اس وقت اپوزیشن گروپوں کے زیرِ کنٹرول ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی فوج نے بدھ کے روز اعلان کیا تھا کہ اس نے اسرائیلی فضائی حدود میں شامی حکومت کا ایک غیر مسلح ڈرون طیارہ مار گرایا تھا جو ممکنہ طور پر معلومات جمع کر رہا تھا۔

جمعے کے روز اسرائیل نے ایک اعلان میں بتایا کہ اسرائیل اور شام کے درمیان متنازع علاقے کے اوپر فضا میں ایک ڈرون طیارے کو میزائل کے ذریعے نشانہ بنایا گیا اور غالبا اس کو مار گرایا گیا۔