.

بصرہ میں عراقی مظاہرین کے ہاتھوں خمینی کی تصاویر نذر آتش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں عوامی احتجاج کا سلسلہ جاری ہے ۔ اس دوران بعض صوبوں میں ایسی جماعتوں اور تنظیموں کے دفاتر کو بھی نذر آتش کیا گیا ہے جن کا ایران سے تعلق ہے۔ ان میں بدر ملیشیا، حزب الدعوہ اور الحکمہ گروپ نمایاں ترین ہیں۔

گزشتہ روز مقامی میڈیا کی جانب سے دکھائے جانے والے مناظر میں بصرہ صوبے کے وسطی علاقے میں مرکزی شاہراہ پر ایک بڑا سائن بورڈ جلتا ہوا نظر آیا جس پر ایرانی انقلاب کے سرخیل خمینی کی تصویر لگی ہوئی تھی۔ یہ اقدام ایران کی عسکری اور سیاسی مداخلت کے خلاف عراقی عوام کے غیض و غضب کی تصویر پیش کر رہا تھا۔

مظاہرین میں شامل ایک عراقی شہری ابو احمد المنصوری نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو میں بتایا کہ بصرہ کے عوام کئی برسوں سے جاری ایرانی کارستانیوں پر چراغ پا ہیں۔ ایران کی جانب سے چھوڑے جانے والے انتہائی نمکین پانی کے سبب بصرہ صوبے کی زرعی اراضی پر منفی اثرات مرتب ہوئے اور اس سلسلے میں آخری اشتعال انگیز کارروائی صوبے کی بجلی منقطع کر دینا ہے۔

اس سلسلے میں کربلا میں ایرانی قونصل خانے کے سفارتی ذریعے کا کہنا ہے کہ عراقی عوام کا اقدام دھمکی آمیز پیغام ہے اور اسی وجہ سے ایرانی زائرین کے لیے داخلے کے ویزوں کا اجراء کم کر دیا گیا۔ ذریعے کے مطابق عراقی حکام نے ایران کو آگاہ کر دیا ہے کہ بغداد کو بجلی اور پانی کی فراہمی روک دینے کے نتیجے میں عوامی غم و غصّہ اپنے عروج پر ہے جو عراق میں ایرانی شہریوں کی سکیورٹی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ اسی واسطے حالات کے پرسکون ہونے تک ایرانی زائرین کے لیے ویزوں کی تعداد میں کمی کر دی گئی ہے۔

ادھر عراقی سکیورٹی ذرائع نے ایک اعلان میں بتایا ہے کہ چند روز قبل بغداد ایئرپورٹ پر 9 ایرانیوں کو حراست میں لے لیا گیا جن کے پاس جعلی پاسپورٹ تھے۔ اس واقعے کے بعد ایرانیوں کے پاسپورٹوں کو مزید باریک بینی سے جانچا جا رہا ہے اور اس سلسلے میں بعض پابندیاں وضع کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔

گزشتہ جمعے کو عراق میں شیعوں کے سب سے بڑے مرجع آیت اللہ علی سیستانی کے نائب عبدالمہدی کربلائی نے اپنے خطبے میں پندرہ برس خدمات کے بدترین سلسلے کے خلاف عوامی احتجاج کے واسطے نجف کے مذہبی مرجع کی سپورٹ کا اظہار کیا۔

اس حوالے سے ایک خصوصی ذریعے نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ کربلا میں احمد سیستانی کے نائب احمد الصافی مظاہرین کے ساتھ مسلسل رابطے میں تھے تا کہ سرکاری اور نجی املاک کو نقصان سے بچایا جا سکے۔

ذریعے نے مزید بتایا کہ اس وقت جاری احتجاج اور مظاہروں کو مکمل طور پر نجف کی حمایت حاصل ہے۔ کربلا صوبے میں سکیورٹی حکام نے مقامی حکومت کی عمارت کے سامنے مظاہروں کے میدان کا رخ کرنے والے ہر شخص کو گرفتار کر لیا۔