.

’70 لاکھ پاؤنڈ کے عوض مصری شہریت کا حصول ممکن‘

قانون کے حامیوں کی اقتصادی فواید اور اپوزیشن کی آبادیاتی مسئلے پر توجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصری پارلیمنٹ نے اتوارکے روز ایک نئے آئینی بل کی ابتدائی منظوری دی ہے جس میں غیرملکیوں کی مصر میں آمد، قیام اور مصر کی شہریت کے حصول کے حوالے سے نیا ضابطہ اخلاق مقرر کیا گیا ہے۔

پارلیمنٹ میں منظور ہونے والے بل کے بعد کوئی غیرملکی مصرکے کسی بنک میں 70 لاکھ مصری پاؤنڈز کے بنک ڈیپازٹ کے بدلے میں مصر کی شہریت حاصل کرسکتا ہے۔

نئے قانون میں واضح کیا گیا ہے کہ مصر کی شہریت کےحصول کے لیے درخواست دہندہ پہلے سے مصر میں مقیم ہو اور وہ کم سے کم سات ملین پاؤنڈز یا اس کے مساوی رقم پانچ سال کے لیے بنک میں جمع کرائے۔

پارلیمنٹ میں ابتدائی منظوری کی بعد اسپیکر نے حتمی منظوری کے لیے قانون پر رائے شماری آئندہ اجلاس تک ملتوی کردی ہے۔ گذشتہ روز ہونے والے اجلاس میں بل کی حمایت میں دو تہائی اکثریت حاصل نہیں ہوسکی۔

پارلیمنٹ کی دفاع و قومی سلامتی کمیٹی کے چیئرمین میجر جنرل کمال عامر نے اس بل پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ غیرملکیوں کو شہریت دلانے کا بل ملک وقوم کے وسیع ترمفاد میں ہے۔ اس بل میں قومی سلامتی کو متاثر کرنے والا کوئی سقم موجود نہیں۔ اس قانون کی منظوری کے بعد عرب ممالک اور عالمی سطح پر مصرمیں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہوگی۔

دوسری جانب رکن پارلیمنٹ ھیثم الحریری نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اسپیکر سے تحریری طورپر کہا ہے کہ وہ شہریت کے حصول سے متعلق نئے بل کو مسترد کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مصر کے سات ملین پاؤنڈ ساڑھے تین لاکھ ڈالر کے برابر ہیں اور یہ کوئی بڑی رقم نہیں۔ کوئی بھی شخص اتنی رقم مصری بنکوں میں پانچ سال کے لیے جمع کرا کر مصر کی شہریت کی درخواست دے سکتا ہے۔ اگرچہ ملک میں سرمایہ کاری کے پہلو سے یہ مثبت اقدام ہوسکتا ہے مگر اس کے نتیجے میں ملک میں آبادی کا توازن بگڑنے کا بھی اندیشہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مصر میں سرمایہ کاری کے حصول اور اس کی حوصلہ افزائی کے لیے شہریت سے ہٹ کر اور اقدامات بھی کیے جاسکتے ہیں۔