.

ایران نے حزب اللہ اور الحشد الشعبی کو یمن میں لڑنے پر مجبور کیا : عمائدینِ صعدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے صوبے صعدہ میں قبائلی عمائدین اور چیدہ شخصیات نے انکشاف کیا ہے کہ ایران اپنی شدت پسند دہشت گرد تنظیموں اور ملیشیاؤں کو، خواہ وہ لبنان میں حزب اللہ ہو یا عراق میں الحشد الشعبی کی صورت میں ہوں، اس بات پر مجبور کر رہا ہے کہ وہ یمن میں حوثی ملیشیا کو عسکری اور تکنیکی سپورٹ فراہم کریں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے صعدہ شہر میں خولان قبیلے کے شیخ یحیی مقیت نے بتایا کہ یمنی فوج نے عرب اتحاد کی معاونت سے البقع کے محاذ پر حوثیوں کی صفوں میں شامل ایک عراقی جنگجو کو ہلاک کر ڈالا جب کہ زمینی منصوبہ بندی میں ماہر 3 لبنانیوں کو قیدی بنا لیا گیا۔ تقریبا 15 روز قبل حرض کے محاذ پر میزائل داغنے کے ماہر 4 ایرانی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے جن میں عسکری ماہر کیان اشتر بھی شامل ہے۔

عراقی شیعہ ملیشیا الحشد الشعبی کے ایک گروپ "سید الشہداء" بریگیڈ کے سکریٹری ابو ولاء الولائی نے سوشل میڈیا پر جاری ایک وڈیو کلپ میں اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ یمن میں حوثیوں کے سرغنے عبدالملک الحوثی کے اشارے پر رضاکارانہ طور پر لڑنے کی خواہش رکھتا ہے۔

ادھر صعدہ صوبے کی سپریم کونسل کے سربراہ عبدالخالق بشر نے باور کرایا ہے کہ یمن ہو یا عراق ہو اور یا پھر لبنان ان تمام ممالک میں ایرانی نظام کا ایجنڈہ ایک ہی ہے جس کا مقصد "خمینی انقلاب" کے منصوبے پر عمل درامد ہے۔ بشر کے مطابق "یمنی اراضی بالخصوص الحدیدہ میں سرکاری فوج اور عرب اتحاد کی کامیابیوں کے بعد اب ایرانی نظام حوثیوں کو مورال سپورٹ پیش کرنے کے مقصد سے پیغامات بھیجنے کی کوشش کر رہا ہے۔ تاہم اس کا ہم پر ہر گز کوئی اثر نہیں ہو گا۔ لبنان یا عراق کی ایران نواز ملیشیائیں یمنی مزاحمت کاروں، یمنی فوج اور عرب اتحاد کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتی ہیں"۔

اسی طرح صعدہ کے ایک قبیلے کے شیخ فہد الاشرفی کا کہنا ہے کہ "الحشد الشعبی سمیت مختلف ایران نواز ملیشیاؤں کا یمن میں حوثیوں کے ساتھ تعاون بہت پہلے سے جاری ہے۔ الحشد الشعبی کے گروپوں کی جانب سے حوثیوں کے لیے سپورٹ... عراق سے یمن تیل کی اسمگلنگ کے ذریعے مالی فنڈنگ کی صورت میں آتی ہے۔ اس مقصد کے لیے عراق میں بعض شیعہ مذہبی شخصیات اور دیگر افراد کی عراقی تیل اسمگل کرنے کے سلسلے میں ساز باز ہے تا کہ تاجروں اور بروکروں کے ہاتھوں اس تیل کو یمن میں فروخت کیا جائے اور حوثیوں کو فنڈنگ کی جائے"۔

شیخ الاشرفی نے واضح کیا کہ "ہم جانتے ہیں کہ وہ پہلے دن سے ہی موجود ہیں تاہم وہ یمنی عوام، مزاحمت کاروں اور فوج کی ثابت قدمی اور عرب اتحاد کی کاوشوں کے ہاتھوں ہزیمت سے دوچار ہو چکے ہیں۔ اب ایران کے سامنے یمن میں داخل ہونے اور اپنے منصبوں کی تکمیل کا کوئی راستہ نہیں ہے"۔

الاشرفی کے مطابق یمن کسی صورت بھی شام نہیں ہے جو حزب اللہ اور ایرانی فرقہ وارانہ ملیشیاؤں کی آمد و رفت کے لیے کھلا ہو اور وہ اسے برباد کر ڈالیں۔ آج یمن کے تمام فضائی، بحری اور زمینی سرحدی راستوں پر کنٹرول مضبوط ہونے کے بعد تہران کی کوئی ملیشیا بھی یمنی اراضی میں دراندازی نہیں کر سکتی۔