.

فلسطینی نژاد نوجوان سماجی کارکن اسدی جلادوں کے تشدد سے شہید

نیراز سعید انسانی خدمات پر’اونروا‘ سے ایوارڈ حاصل کر چکے تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انسانی حقوق کی تنظیموں اور شام کے سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ اسد رجیم کے ایک عقوبت خانے میں پابند سلاسل فلسطینی نژاد امدادی کارکن اور ’فوٹو گرافر‘ نیراز سعید کو دوران حراست تشدد کرکے قتل کردیا گیا ہے۔

’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کے مطابق اسدی فوج نےنیراز سعید کو 2015ء کے آخر میں حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پرمنتقل کردیا تھا۔ اس کی گرفتاری جنوبی دمشق میں قائم یرموک فلسطینی پناہ گزین کیمپ میں امدادی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی پاداش میں عمل میں لائی گئی تھی۔ اسدی فوج نے کئی سال سے اس کیمپ کا محاصرہ کررکھا ہے اور کیمپ میں رہنے والے فلسطینی پناہ گزینوں کے پاس خوراک اور ادویات سمیت زندگی بچانے کے لیے کچھ نہیں۔

نیراز سعید کو 2011ء میں بشارالاسد کے خلاف عوامی انقلاب کی تحریک کی حمایت کے الزام میں حراست میں لیا گیا تھا۔ تاہم رہائی کے بعد وہ شام سے چلا گیا تھا۔ بعد ازاں یرموک پناہ گزین کیمپ میں فلسطینی پناہ گزینوں کی کسمپرسی اور تباہی وبربادی کی خبریں سن کر واپس آگیا اور متاثرین کی مدد شروع کردی تھی۔

مقتول سماجی کارکن نیراز سعید کی اہلیہ لمیس الخطیب نے سماجی رابطوں کی ویب سائیٹ ’فیس بک‘ پر پوسٹ ایک بیان میں کہا ہے کہ اس کے شوہر کو اسد رجیم کے ایک عقوبت خانے میں انسانیت سوز تشدد کرکے شہید کردیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ نیراز سعید کا تعلق فلسطین کے بحیرہ طبریا کے جنوب مغربی علاقے عولم سے ہے۔

’تین بادشاہوں کی تصویر‘

فلسطینی نژاد سماجی کارکن نیراز سعید کو اس کی انسانی خدمات کی وجہ سے شہرت ملی مگر سب سے زیادہ شہرت انہیں سنہ 2014ء میں تین پناہ گزین بچوں کی تصویر کے بعد ملی تھی۔ ’ملوک الثلاثہ‘ نام سے اس تصویر میں تین فلسطینی پناہ گزین بچوں کو روتے دیکھا جاسکتا ہے۔ اس تصویر کے بعد فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے کام کرنے والے اقوام متحدہ کے ادارے’اونروا‘ نے سعید کو ایوارڈ بھی جاری کیا تھا۔

مذکورہ تینوں بچوں کی تصویر کی تصویر یرموک پناہ گزین کیمپ میں بنائی گئی مگر وہ تیوں بچے جنوبی دمشق کے سبینہ پناہ گزین کیمپ سے ہیں جو نقل مکانی کرکے یرموک کیمپ چلے گئے تھے۔ خوراک نہ ملنے اور بیماریوں کی وجہ سے تینوں بچے نڈھال اور اسد رجیم کے مظالم کی مجسم تصویرہیں۔