.

"بائیکاٹ" کے ایک سال بعد قطر کی معیشت سے متعلق حیران کن اعداد وشمار !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

چار عرب ممالک کی جانب سے قطر کے بائیکاٹ کا ایک سال گزر جانے کے بعد دوحہ کی معیشت زیادہ بہتر حال میں نظر نہیں آ رہی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مذکورہ ممالک کی جانب سے تعلقات منقطع کرنے اور سرحدی گزر گاہوں کی بندش کے فیصلے نے قطر کی اقتصادی حالت کو کمزور کر ڈالا ہے اور دوحہ کو اربوں ڈالروں کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے!

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق قطر اسٹاک ایکسچینج کے اعداد وشمار سے معلوم ہوتا ہے کہ 5 جون 2017ء کو بائیکاٹ کے آغاز کے بعد سے ایکسچینج 35 ارب قطری ریال کا خسارہ دیکھ چکا ہے۔ جون 2018ء کے اختتام پر ایکسچینج میں مندرج کمپنیوں کے حصص کی مجموعی مالیت 493.6 ریال تک نیچے آ گئی جو جون 2017ء کے اوائل میں 528.5 ارب ریال تھی۔

البتہ رواں سال کے ابتدائی چھ ماہ کے دوران قطر ایکسچینج کے خسارے کے کچھ حصّے کی تلافی ممکن ہو سکی ہے۔ اس دوران دسمبر 2017ء کے اختتام پر کمپنیوں کی مارکیٹ ویلیو 472 ارب ریال میں 21.58 ارب ریال کا اضافہ دیکھنے میں آیا۔ واضح رہے کہ دسمبر 2016ء کے اختتام پر قطری اسٹاک ایکسچینج میں مندرج کمپنیوں کے حصص کی مجموعی مارکیٹ ویلیو 563.46 ارب قطری ریال تھی۔ اس کا مطلب ہوا کہ گزشتہ ڈیڑھ برس میں ایکسچینج کا خسارہ 70 ارب ریال رہا!

تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق جون 2018ء کے دوران قطر اسٹاک ایکسچینج میں زیر گردش حصص کی مجموعی مالیت 25.57% کی کمی کے بعد 7.96 ریال تک پہنچ گئی۔ مئی 2018ء میں یہ مالیت 10.7 ارب ریال تھی۔ اس دوران زیر گردش حصص کی تعداد بھی 36.04% کم ہو کر 17 کروڑ حصص رہ گئی۔ اس سے قبل مئی میں ان کا حجم 26.59 کروڑ حصص تھا۔

قطر کا بینکنگ سیکٹر بھی ملک کی معیشت کو ہلا دینے والے اس بحران کے اثرات سے محفوظ نہ رہ سکا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق قطر کا مرکزی بینک چار ملکی بائیکاٹ کے اعلان کے بعد مجموعی ڈپازٹ کی مد میں جون 2017ء (17.77 ارب ریال) سے مارچ 2018ء (10.1 ارب ریال) تک 9 ماہ کے دوران 7.6 ارب ریال سے محروم ہوا۔

قطر کے مرکزی بینک میں بین الاقوامی زر مبادلہ اور غیر ملکی کرنسی کی سیالیت میں کمی بھی دوحہ کی معیشت کو درپیش پے درپے جھٹکوں کی ہی دلیل ہے۔

چار ملکی بائیکاٹ سے قبل قطر کے پاس بین الاقوامی زر مبادلہ کا مجموعی حجم 166.5 ارب ریال تھا۔ بائیکاٹ کے 9 ماہ بعد رواں سال کی پہلی سہ ماہی کے اختتام پر یہ حجم 28.8 ارب ریال کی کمی کے بعد 137.7 ارب ریال رہ گیا۔